یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 47 of 117

یادوں کے دریچے — Page 47

یادوں کے در یح 47 لکھا ہوا ہے۔مجھے یہ بہت بُرا لگا اور میں نے ابا جان کی خدمت میں خط لکھ کر اس کا اظہار بھی کر دیا۔اس خط کے جواب میں ابا جان نے جو خط لکھا اس کا متعلقہ حصہ لکھے دیتا ہوں۔آپ نے لکھا: تمہارے خط میں ہے کہ نوکری کے نام سے مجھے نفرت ہے۔لیکن میں نہیں سمجھا کہ نوکری کا سوال کس طرح پیدا ہوا۔زمین میری ہے کسی اور کی نہیں۔ہر بچہ آدم کے وقت سے اپنے والدین کے خرچ پر ہی پلتا ہے اور ان کی جائیداد کا وارث ہوتا ہے۔نوکری کا سوال کب پیدا ہوا۔اگر کسی وقت کسی پل پر تنخواہ کا لفظ لکھا گیا ہو تو یہ تو میرے ساتھ بھی ہوتا رہا ہے۔سالہا سال تک عملہ کے نیچے انجمن میں میرا نام ہوتا تھا۔لوگوں نے اعتراض کیا تو رُکا۔میں نے ایسی بات پر سوال اٹھانے کی اس سے پہلے ضرورت نہیں سمجھی۔ایسی چھوٹی باتوں کی طرف دھیان نہیں کرنا چاہئے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد اس خط میں میری تسلی بھی کر دی سمجھا بھی دیا تعلیم بھی دے دی کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔نگاہ اونچی رکھنی چاہئے۔لیکن اس کے ساتھ ہی آپ نے میرے جذبات اور عزت نفس کا بھی خیال رکھا۔آپ نے ہی اکا ؤنٹنٹ کو ہدایت بھجوائی ہوگی کیونکہ اس کے بعد سے اکاؤنٹنٹ وصولی پر دستخط کروانے آتے تھے تو میرے نام کے آگے ” جیب خرچ “ لکھا ہوتا تھا۔اور خود بھی جب اخراجات کی رقم میں زیادتی فرماتے تو جیب خرچ ہی لکھتے۔فارمز پر قیام میں ابھی تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ خط ملا : وو چونکہ تمہارا سب وقت اسی کام پر لگتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آیا اس لئے میرا ارادہ ہے کہ 66 واپس بلا کر تم کو دینی کام پر لگا دوں۔سو تم اپنے کام کو اب اس طرح رکھو کہ جلد واپس آسکو “ ملازمین سے درگزر اس خط کے ملنے کے چند دن بعد ہی ابا جان کا خط ملا کہ : دو ہفتہ تک ہم سندھ کے لئے روانہ ہوں گے۔اس دفعہ میرا ارادہ ہے کہ تفصیل سے