یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 46 of 117

یادوں کے دریچے — Page 46

46 بھجوا دیا۔میرے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔نہ مجھے زراعت کا علم نہ طبیعت کا رجحان لیکن قدم قدم پر ابا جان کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی میرے کام آئی۔چھوٹی چھوٹی باتوں کے متعلق بھی خط لکھ کر رہنمائی کی گزارش کرتا۔فوری جواب ملتا۔ایک مرتبہ متعد د خطوط کا جواب نہ ملنے پر میں نے کچھ شکوہ کے رنگ میں آپ کی خدمت میں لکھا۔مجھے علم نہیں تھا کہ ان دنوں آپ بیمار ہیں۔اس خط کے جواب میں مجھے لکھا: پیارے مبارک احمد سلمکم اللہ تعالی السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ تمہارے خط ملتے رہے ہیں۔دفتر ی طور پر جواب بھی جاتے رہے ہیں۔میری طبیعت گزشتہ ایام سے سخت خراب تھی اس لئے خود خط نہیں لکھ سکا۔آج بھی مفصل نہیں لکھ سکتا۔میری تو صحت بھی خطرناک طور پر بگڑ گئی ہے اور اعصاب میں تحلل شروع ہو گیا ہے جو نہایت مہلک مرض ہے۔میں ابھی اس کا اظہار نہیں کر رہا تا کہ جماعت میں پریشانی نہ ہو اور نہ گزشتہ ایام میں میری صحت خطرناک طور پر گر گئی ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی صحت ہو سکتی ہے۔ایسی صورت میں مزید پریشانیوں سے مرض کے شدت پکڑ جانے کا ڈر ہے اور صحت کی امید بالکل جاتی رہتی ہے۔باقی باتوں کا جواب پھر۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھیان نہ دینے کی نصیحت سندھ کی اراضیات کی نگرانی کا افسر اعلیٰ ایجنٹ کہلاتا تھا۔اس کے ساتھ ایک اسسٹنٹ ایجنٹ مقرر تھا۔مختلف فارمز میں مینجر وغیرہ۔مجھے جب بھجوایا گیا تو میرا عہدہ جائینٹ ایجنٹ مقرر فرمایا۔آپ نے ایک ماہوار رقم میرے اخراجات کے لئے مقرر فرما دی۔پہلے ماہ کا ہی اکا ؤنٹنٹ نے جو ہل بنایا اور مجھے وصولی کے دستخط کرنے کے لئے کہا تو میں نے دیکھا کہ اس مقررہ رقم کے آگے تنخواہ کا لفظ