یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 48 of 117

یادوں کے دریچے — Page 48

یادوں کے در بیچے 48 حسابات کو چیک کروں اور انتظام کو بہتر بنانے کے لئے بھی غور کروں۔تم عملہ کو ہدایت دے دو کہ جملہ امور کی فوری تیاری کر لیں۔“ 66 ناصر آباد فارم پہنچنے کے دوسرے دن ہی عشاء کی نماز کے بعد میٹنگ بلائی۔جس میں ایجنٹ ، اسٹنٹ ایجنٹ مینیجر ناصر آباد فارم اور مجھے شمولیت کا حکم دیا۔ایک لطیفہ بیان کرنے کے لئے یہ لکھ رہا ہوں۔میٹنگ شروع ہوئی۔ابھی رات کے ساڑھے بارہ بجے تھے کہ ہمارے اسٹنٹ ایجنٹ کرسی پر ہی گہری نیند سوئے ہوئے خراٹے لینے لگے۔تھوڑے عرصہ کے بعد مینجر صاحب اور کچھ اور وقت گزرنے کے بعد ایجنٹ صاحب بھی گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔اباجان نے مزید چند منٹ مجھے سے کام کے متعلق گفتگو فرمائی۔پھر مجھے کہنے لگے کہ آؤ خاموشی سے اٹھ کر گھر چلے جاتے ہیں ان کو اسی طرح سوتا چھوڑ کر۔اس وقت رات کا ڈیڑھ بجا تھا۔اگلے روز ان تینوں کارکنوں نے معافی کے خطوط لکھے۔کوئی ناراضگی تو نہیں تھی ، کارکنان کو اس غیر ذمہ دارانہ حرکت پر تنبیہ تھی۔ابا جان نے ان کی تسلی کر دی کہ میں ناراض نہیں صرف توجہ دلانا مقصود تھا کہ کام کے وقت چوکس اور ہوشیار رہنا چاہئے۔تمام بچوں کو دین کی راہ میں وقف کی خواہش چند ہفتوں بعد ابا جان نے مجھے قادیان واپس بلالیا اور اسی دفتر میں کام پر لگا دیا جس کی آپ خود براہِ راست نگرانی فرماتے تھے۔اس دفتر میں کام کرتے ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ مولوی عبدالرحمن انور صاحب جو ان دنوں تحریک جدید کے انچارج تھے اور واقفین زندگی کی نگرانی وغیرہ کا کام بھی انہی کے سپر دتھا کی طرف سے مجھے خط ملا کہ آپ واقف زندگی ہیں اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کے سر کے بال مغربی طرز پر کئے ہوئے ہیں۔آپ فوراً اپنی حجامت بنوائیں۔سر کے آگے اور پیچھے ایک جیسے بال ہونے چاہئیں۔خط ملتے ہی میں نے جوابا لکھا کہ : آپ کو کس نے بتایا کہ میں واقف زندگی ہوں۔واقفین کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحریراً اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کریں۔میری کوئی تحریر آپ کے پاس ہے تو اس کی نقل مجھے بھجوائیں ورنہ آئندہ آپ مجھے مخاطب نہ کریں۔“ ان کی طرف سے دوبارہ کبھی مجھے کوئی خط نہ ملا۔حضرت مصلح موعودؓ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد