یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 17 of 117

یادوں کے دریچے — Page 17

یادوں کے دریچ 17 کی اشیاء ، نہ فرشوں پر قالین۔عام اور ستی دریاں بچھی ہوتی تھیں۔فرش پر ہی دستر خوان بچھا دیا جاتا اور در یوں پر ہی بیٹھ کر سب کھانا کھاتے تھے۔گھروں میں سادگی کے متعلق لکھتے لکھتے یاد آیا کہ حضرت ابا جان اپنی بیگمات کو ان کے ذاتی اخراجات اور گھر یلو اخراجات کے لئے جو رقوم ادا فرماتے تھے وہ اس قدر قلیل رقم ہوتی تھی کہ مہینہ کے اخراجات آنے آنے پر نگاہ رکھ کر ہی پورے کئے جا سکتے تھے۔گھر کے جملہ افراد کی تعداد کے مطابق فی کس خرچ ناپ تول کر ہی دیا جاتا تھا۔اگر کسی بیوی کے گھر کوئی مہمان آتے تو مہمانوں کے قیام کے دنوں کے مطابق ان کا خرچ ادا فرما دیتے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ آپ کو خوب اندازہ تھا کہ جو خرچ میں دیتا ہوں اس میں مہمانوں کی آمد کی وجہ سے مہینہ پورا نہ کیا جا سکے گا۔بچوں کی نشو ونما کا خیال بیویوں کی باریاں مقرر تھیں۔اس لئے ابا جان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا جو ہر تیسرے چوتھے روز دو کھانے ہوتے تھے ہم بچوں کے لئے بڑی مشکل کا وقت ہوتا تھا۔خود تو بہت کم کھاتے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو پہر کے کھانے کے وقت جبکہ ابھی کھانا شروع ہی کیا ہوتا تھا پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے آپ کو ڈاک کا تھیلا آ جاتا تھا۔ابھی ایک لقمہ ہی منہ میں ڈالا ہوتا تھا کہ ڈاک کا تھیلا موجود۔کھانے کے دوران دستر خوان پر بیٹھے بیٹھے تھیلا کھولتے ، قلم جیب سے نکالتے اور خط پڑھنے شروع کر دیتے اور ساتھ ساتھ ان پر ہدایات بھی لکھتے جاتے۔اور ڈاک پڑھتے ہوئے کبھی کبھی منہ میں نوالہ بھی ڈال لیتے۔ادھر ڈاک ختم کی اور اُدھر اٹھ کھڑے ہوئے۔بعض دفعہ خیال آتا تھا کہ اتنی تھوڑی خوراک پر یہ کیسے زندہ ہیں۔لیکن کھانے کے دوران ہم بچوں پر نگاہ ہوتی تھی کہ کھانا دائیں ہاتھ سے ڈش سے نکالا ہے۔اپنے سامنے جو کھانا ڈش میں ہے اُس طرف سے نکالا ہے۔اتنا ہی نکالا ہے جو کھانا ہے۔کھاتے وقت منہ کھلا تو نہیں رکھتے۔کھاتے وقت مچاکوں کی آواز تو نہیں نکالتے۔کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئے یا نہیں۔کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے ، گھی کی کہ نہیں۔اس گہری نظر کا ایک واقعہ میں نہیں بھولتا۔مجھے ایک دفعہ خیال آیا کہ میں بھی کم کھانا شروع کروں۔چنانچہ میں نے نصف پھل کا کھانا شروع کر دیا ( ہمارے ہاں پھل کا بار یک چپاتی جو بہت کم