یادوں کے دریچے — Page 7
7 کچھ مصنف کی طرف سے کافی سال گزرے ایک عزیز نے خواب میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی لمصلح الموعود کو دیکھا اور آپ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ ” جماعت نے مجھے اتنی جلدی بھلا دیا یہ خواب سن کر میرے دل کی جو حالت ہوئی اس کو بیان نہیں کر سکتا۔دل خون کے آنسور دور ہا تھا پر زبان گنگ تھی۔چند سال قبل فضل عمر فاؤنڈیشن کی طرف سے جو حضرت مصلح موعودؓ کی سوانح کی ایک جلد طبع ہو چکی ہے۔اس پر مجھے خیال آیا کہ کسی شخص کی سوانح بالعموم اس کے تاریخی کارنامے ، دینی ہلی اور قومی خدمات وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے۔اس کی گھریلو زندگی اور اس کے شب و روز اور بعض دیگر پہلو جو باہر کے لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں سوانح کا حصہ نہیں بن سکتے اور ایک خلاء رہ جاتا ہے۔اس خلاء کو کسی حد تک پورا کرنے کے لئے میں نے قلم اٹھایا ہے۔اس امر کا اظہار ضروری ہے کہ جو کچھ میں لکھ رہا ہوں یہ کسی طبع شدہ مواد سے نہیں لیا گیا سوائے چند ایک تاریخی واقعات کے نہ ہی ایسا ممکن ہے۔میں نے جو کچھ سنا ، جو کچھ دیکھا ، جو گزرا اپنی یادداشت کے مطابق پیش کر رہا ہوں۔جو اپنے ایک عظیم محسن کے احسانوں کے شکریہ کا اظہار ہے اور بس۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری معلوم دیتی ہے کہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں یہ کوئی تاریخ نہیں کہ ماہ و سال کا لحاظ رکھا جاتا۔لکھتے لکھتے جو یاد آیا لکھ رہا ہوں۔اس لئے اس تحریر کا عنوان میں نے یادوں کے در بیچے تجویز کیا ہے۔اپنے بچپن کا ایک واقعہ محض اس غرض سے لکھ رہا ہوں کہ پڑھنے والے تسلی پاسکیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچپن سے ہی میری قوت حافظہ بہت اچھی ہے اور مجھے اس بارہ میں اپنے اوپر پورا بھروسہ ہے۔واقعہ یوں ہے کہ میں آٹھ نو سال کا تھا کہ ایک دن میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ جس خاتون نے مجھے دودھ پلایا تھا آپ نے کبھی اس کے بارہ میں مجھے نہیں بتایا۔نہ کبھی یہ بتایا کہ وہ خاتون اب کہاں ہیں؟ کس حال میں ہیں؟ کبھی ان سے مجھے ملا یا نہیں۔جس کی وجہ سے میرے دل لے نوٹ : ریویو کے ایڈیٹر مولوی محمد علی صاحب تھے جو بعد میں لاہور جا کر امیر غیر مبائعین بنے۔