یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 8 of 117

یادوں کے دریچے — Page 8

8 میں ایک خلش سی رہتی ہے۔میری والدہ نے یہ کہ کر ٹالنے کی کوشش کی کہ تمہیں کیا کسی نے دودھ پلایا تھا۔تمہاری پیدائش کے بعد میں بیمار ہو گئی تھی اس لئے مجبوراً دایا کا انتظام تمہارے ابا نے کیا تھا اس نے اڑھائی سال تمہیں دودھ پلایا تھا اور مزید چھ ماہ ہمارے پاس رہ کر اپنے شہر چلی گئی۔اتنا ہی بتا کر کوئی اور بات شروع کر دی۔میں نے بات کاٹ کر والدہ صاحبہ سے عرض کیا کہ میں آپ کو بتا تا ہوں کہ میری دایا کی شکل وصورت کیسی تھی۔یہ بتا کر میں نے سوال کیا کہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے کیا یہ درست ہے یا نہیں ؟ میری والدہ کے چہرہ پر اس وقت سخت حیرانگی کے آثار تھے۔تھوڑی سی خاموشی کے بعد فرمانے لگیں کہ تم نے جو کچھ کہا ہے درست کہا ہے۔مجھے اپنی غفلت اور سستی کا اعتراف بھی کرنا ہے۔چند سال ہوئے ایک مخلص دوست (جو وفات پاچکے ہیں ) جو د نیوی حیثیت بھی رکھتے تھے اور علمی میدان میں بھی بلند پایہ شخصیت تھے ہمارے ر تشریف لائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زندگی کے متعلق انہوں نے مجھ سے بعض سوالات کئے۔میں نے چند ایک واقعات بیان کئے تو فرمانے لگے کہ آپ یہ پیارا خزانہ اپنے دل میں کیوں دفن کئے بیٹھے ہیں؟ آپ ضبط تحریر میں لائیں یہ بھی جماعت کی ایک خدمت ہوگی۔سالوں گزر گئے اور میں اپنی خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوا۔آج بیٹھے بیٹھے دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور یہ شعر گنگنانے لگا : غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا اور اس کے ساتھ ہی کسی ساز کے نہیں دل کے تار ہلنے لگے اور اس محبوب کی یاد نے تڑپا دیا جو میری اس عمر رفتہ کی یاد ہے۔جو اس کے ساتھ گزری جس کی یا دمیرا سرمایہ حیات ہے۔مرزا مبارک احمد