یادوں کے دریچے — Page 86
سلف صالحین سے عقیدت 98 86 ابھی میں سکول میں ہی تھا کہ حضرت صاحب لاہور تشریف لے گئے اور حسب دستور مجھے ساتھ لے گئے۔لاہور کے قیام کے دوران آپ نے مجھے چودھری علی محمد صاحب ( حضور کے ذاتی ملازم تھے ) کے ساتھ حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر دعا کرنے کے لئے بھجوایا۔جہاں تک مجھے یاد ہے آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعود نے مجھے بھی حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر دعا کے لئے بھجوایا تھا۔اس سفر میں ایک لطیفہ بھی ہوا۔لاہور جاتے ہوئے امرتسر کے ریلوے اسٹیشن پر سپنسر ریسٹوران میں چائے وغیرہ پینے کے لئے کچھ دیر کے لئے رُکے۔پلیٹ فارم میں داخل ہونے پر دیکھا کہ چوہدری سر شہاب الدین صاحب ٹہل رہے ہیں۔انہوں نے بھی حضرت صاحب کو دیکھ لیا تھا اس لئے آپ کی طرف آگئے۔ابا جان کے پوچھنے پر کہ کہاں جا رہے ہیں کہنے لگے کہ لا ہور جا رہا ہوں۔آپ نے ان سے کہا کہ پھر میرے ساتھ کار میں چلیں۔ریسٹوران سے فارغ ہو کر لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔آپ موٹر بہت تیز چلواتے تھے۔لاہور پہنچنے پر چوہدری صاحب نے کہا کہ مجھے اب اتار دیں میں تانگہ لے کر چلا جاؤں گا۔ابا جان نے فرمایا کہ میں خود آپ کو گھر چھوڑ نے جاؤں گا۔ان کے گھر پہنچے ، چوہدری صاحب کار سے اترے تو حضرت ابا جان نے ان سے کہا کہ خیریت سے پہنچ گئے نا ؟ چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ حضور کی دعا سے ہی خیریت سے پہنچے ہیں ورنہ جس رفتار سے کار چلائی جارہی تھی مجھے تو بہت خوف تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔دوسروں کی رائے کا احترام حضرت مصلح موعودؓ کی اعلیٰ اخلاقی اقدار اگر چند لفظوں میں بیان کی جائیں تو میں اپنے مشاہدہ کی بناء پر پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ متحمل، بردبار اور بے تعصب تھے۔آپ میں اپنائیت ، خودستائی اور خود بینی نام کو نہ تھی۔آپ آزادی رائے کو نہ صرف جائز سمجھتے تھے بلکہ آزادی عقائد کی عملاً حمایت فرماتے۔ایک دو مثالیں تو پہلے آچکی ہیں ایک اور واقعہ میرے علم میں آیا ہے جو