یادوں کے دریچے — Page 85
یادوں کے در یح 85 ہو کر حضرت نواب صاحب مع اپنے باراتیوں کے واپس جانے کے لئے باہر نکلے تو نواب صاحب نے میر صاحب کو مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے ہدایت کی تھی کہ کوئی فرد جو میرے ساتھ بارات میں جا رہا ہے کچھ نہیں کھائے گا اور میری ہدایت کے خلاف عمل کرے گا وہ میری کوٹھی میں قدم نہ رکھے۔اس پر میر صاحب نے بڑے نرم لہجے میں حضرت نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ نواب صاحب ہم تو خلیفہ کے تابع ہیں آپ کے نہیں۔اسی لئے میں خود بھی آپ کے گھر واپس جانے کو تیار نہیں۔میں یہیں سے حضرت مسیح موعود کے لنگر خانہ میں جارہا ہوں اور وہیں رہوں گا۔اس واقعہ سے جو باتیں واضح ہو جاتی ہیں وہ اول یہ کہ ہر فرد کو ذاتی رائے ، حریت ضمیر اور صوابدید کا حق ہے۔اس کی رائے خواہ خلیفہ کی رائے سے کتنی بھی مختلف ہو اس پر کوئی تعزیر عائد نہیں ہوتی۔دوئم یہ کہ حضرت صاحب میں کس قدر رواداری ، حمل، برداشت ، درگزر اور آزادی عقائد کا پاس تھا۔نواب صاحب کے اس طرز عمل پر نہ کوئی ناراضگی پیدا ہوئی نہ کسی ناپسندیدگی کا اظہار۔جماعتی افراد کے احوال کا علم آپ کی یادداشت کا ایک بڑا دلچسپ واقعہ لکھتا ہوں۔جلسہ سالا نہ میں باہر سے آنے والے احباب کی ضلع وار جماعتوں سے ملاقات ہوتی تھی جو رات گئے تک جاری رہتی۔آپ کی بیماری کے آخری سالوں کا یہ واقعہ ہے۔آپ کی بیماری کے پیش نظر ملاقاتوں کا وقت کم کر دیا گیا تھا۔میں حضور کے پہرے کا انچارج تھا۔آپ نے مجھے ہدایت کی کہ پہریداروں کو اچھی طرح ہدایت کر دو کہ وہ کسی شخص کو بھی جلدی جلدی آگے دھکیلنے کی کوشش نہ کریں، میں اس کو پسند نہیں کرتا۔گوجرانوالہ کی جماعت کی ملاقات جاری تھی۔ایک غریب احمدی دھوتی اور کھڈ ر کی قمیص میں ملبوس ضلع گوجرانوالہ کے کسی گاؤں کی جماعت کے فرد تھے۔انہوں نے حضرت ابا جان سے مصافحہ کیا اور ہاتھ پکڑے رکھا۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگے ”حضور مینوں بچھا تائیں‘ (حضور آپ نے مجھے پہچانا نہیں ) ابا جان نے فوری جواب دیا میں نے پہچان لیا ہے آپ فلاں گاؤں سے آئے ہیں اور گزشتہ تین سالوں سے آپ جلسہ پر نہیں آئے۔یہ سننا تھا کہ گھبرا کر فرمایا کہ حضور ٹھیک فرمایا ہے۔آئندہ غلطی نہیں کروں گا اور یہ کہہ کر آپ کا ہاتھ چھوڑا اور شرمندگی چہرے پر عیاں تھی۔