یادوں کے دریچے — Page 76
76 عرب صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ ان کے والد صاحب سے نہیں مل سکے۔ان کے علم میں اتنی وسعت اور اتنی گہرائی تھی کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔میں اپنا ذاتی تجربہ آپ کو بتا تا ہوں۔ہمارا چیرمین میرے ہاتھ ایک خط لے کر گیا اور انہوں نے مہربانی فرما کر مجھ سے ملاقات کی اور مجھ سے دریافت کیا کہ آپ نے جہاز رانی کے متعلق کوئی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل کی ہے؟ میرے بتانے پر کہ انگلستان میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے۔آپ نے جہاز رانی میں کامیابی حاصل کرنے کے متعلق بڑی تفصیلی روشنی ڈالی اور ایسے ایسے امور بیان کئے جو میرے لئے بالکل نئے تھے۔میں سنتا جا تا تھا اور سخت شرمندہ بھی ہو رہا تھا کہ کہاں میر اعلم اور کہاں اس شخص کا علم۔مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں اس علم کی ابتدائی کلاس کا طالب علم ہوں۔یہ تو تھا پاکستان میں جہاز رانی کی ابتداء کا واقعہ۔اس کمپنی کا نام پاکستان سٹیم چپ کمپنی لمیٹڈ۔ہے۔دوسری تحریک پاکستان میں ہینکس قائم کرنے کی تجویز بھی جو حبیب بنک لمیٹڈ کی شکل میں سامنے آئی۔اب ایک ایسے امر کا اختصار سے ذکر کر دیتا ہوں جو ملکی دفاع سے تعلق رکھتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کو ئٹہ تشریف لے گئے۔پاکستان بننے کی ابتداء میں ہی یہ سفر اختیار کیا تھا۔چند ماہ وہاں قیام بھی کرنا تھا۔اس وقت سٹاف کالج کوئٹہ میں جنرل اختر ملک مرحوم بھی تھے ان کا اس وقت کا عہدہ مجھے یاد نہیں ) انہوں نے حضرت اباجان کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ سٹاف کالج کو جو افسران پیشل کورسز کے لئے مقیم ہیں ان کو پاکستان کا دفاع کے موضوع پر خطاب کریں۔شام کی چائے پر سب کو مدعو کیا جائے گا اس موقع پر آپ تقریر فرما ئیں۔حضرت ابا جان نے پاکستان کے دفاع اور اس کے لئے مناسب اسلحہ وغیرہ پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی اور بعض تجاویز بھی پیش کیں۔جن میں تینوں سروسز یعنی آرمی ، نیوی اور ائیر فورس کے متعلق مختلف زاویوں سے دفاع کی تفاصیل بیان فرمائیں۔جنرل محمد ایوب خان صاحب ان دنوں سٹاف کالج میں کورس کر رہے تھے۔بہر حال اختر مرحوم نے ایوب خان کو بھی دعوت نامہ دیا۔انہوں نے معذرت کر دی کہ اس دن میں فارغ نہ ہوں گا اس لئے شامل نہ ہو سکوں گا۔جنرل اختر ملک صاحب نے اپنے ایک دو مشتر کہ دوستوں سے کہا کہ آپ ایوب خان صاحب سے کہیں کہ وہ دوسرا کام چھوڑ کر تشریف لے آئیں۔اس پر وہ رضا مند ہو گئے اور تقریب میں شمولیت کے لئے تشریف لے آئے۔سب سے اگلی صف میں جو کرسیاں بچھی تھیں جنرل ایوب مرحوم انہی میں سے ایک سیٹ پر بیٹھے تھے۔تقریب کے اختتام پر