یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 75 of 117

یادوں کے دریچے — Page 75

یادوں کے در یح 75 حضرت صاحب نے جو چند فقرے در دصاحب کو ترجمہ کر کے آگے سنانے کے لئے کہے تو در دصاحب نے ایسا تر جمہ کیا جو صحیح مفہوم ادا نہ کرتا تھا۔اس پر حضرت صاحب نے در دصاحب کوٹو کا کہ یہ ترجمہ صحیح نہیں کیا گیا اس کو درست کر کے آگے پہنچا ئیں۔حضرت صاحب کا یہ کہنا تھا کہ میسولینی صاحب نے زور سے قہقہہ لگایا اور حضرت صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں بھی انگریزی جانتا ہوں اور آپ بھی ، اب ان ترجمانوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔براہِ راست ہی بات کرتے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد ہر دو نے انگریزی میں گفتگو شروع کر دی۔علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں جس موعود لڑکے کی بشارت عطا فرمائی اس کی صفات بھی اس پیشگوئی میں بیان فرما دیں۔جن میں سے ایک یہ کہ علومِ ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا پر لکھنا تو سوانح نگار کا کام ہے۔میں تو دو واقعات جس کا مجھے ذاتی طور پر علم ہے اور ایک جو تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔تا پڑھنے والے پیشگوئی میں مذکور خدائی وعدہ کہ وہ موعود فرزند علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا‘‘ کی ایک جھلک یہاں بھی دیکھ سکیں۔پاکستان بننے کے بعد ابا جان نے پاکستان کی صنعتی و اقتصادی ترقی کے لئے بعض تحریکیں کیں۔جن میں پاکستان میں بینکنگ اور جہاز رانی کی ابتداء بھی تھی۔بحری جہازوں کی کمپنی کے قیام کے لئے آپ نے سیٹھ اسمعیل صاحب ( جو احمدی نہیں تھے ) کو توجہ دلائی۔انہوں نے اس پر آمادگی کا اظہار فرمایا اس شرط کے ساتھ کہ آپ خود بھی اور جماعت کی طرف سے بھی کمپنی میں کچھ حصص خریدیں۔آپ نے منظور فرما لیا۔کمپنی کی بنیاد ڈال دی گئی۔دو چار سال گزرنے پر سیٹھ صاحب نے کمپنی کے سیکرٹری کو ابا جان کی خدمت میں کسی مشورہ کے لئے خط دے کر بھجوایا۔یہ صاحب آئے اور آپ سے ملے اور واپس چلے گئے۔کافی سال گزرنے کے بعد اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ کے بعد اس کمپنی کے ایک ڈائریکٹر جو سعودی عرب سے تعلق رکھتے ہیں۔مجھے مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ میں آپ کے بڑے بھائی سے ملا ہوں۔آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے اور بڑے عالم ہیں۔یہ سنتے ہی وہ صاحب جو پہلے کمپنی کے سیکرٹری تھے اور اب مینیجنگ ڈائر یکٹر ہو چکے تھے نے ان