یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 77 of 117

یادوں کے دریچے — Page 77

یادوں کے در یح 77 چائے کی سروس شروع ہوئی۔اختر مرحوم نے جنرل ایوب صاحب کا حضرت صاحب سے تعارف کروایا۔کچھ دیر باتیں کرتے رہے اور بہت شکریہ ادا کیا کہ غیر معمولی علم کا حامل تھا آپ کا لیکچر۔بعد میں اپنے دوستوں سے جنرل ایوب صاحب نے کہا کہ بڑا مشکور ہوں کہ مجھے وہاں آپ لوگ لے گئے۔جب حضرت مرزا صاحب تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو میں نے خیال کیا کہ ایک مذہبی آدمی ڈیفنس کے متعلق کیا جانے ، مولویوں والی تقریر ہوگی۔اس نے ہمیں کیا سکھانا اور کیا بتانا ہے۔لیکن جیسے جیسے تقریر آگے بڑھتی گئی مجھے یوں لگ رہا تھا کہ ڈیفنس کے معاملہ میں میں ابھی طفلِ مکتب ہوں انہوں نے ایسی ایسی تجاویز بیان فرمائی تھیں کہ ہم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔وو چوتھا واقعہ جو آپ کے علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا کے الہامی الفاظ کی منہ بولتی صداقت ہے۔یوں ہوا کہ 26 فروری 1919ء کو مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی اسلامیہ کالج لاہور کے زیر انتظام حبیبہ ہال میں آپ نے اسلام میں اختلافات کا آغاز“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔اس جلسہ کے صدر مؤرخ اسلام جناب سید عبد القادر صاحب ایم۔اے تھے۔سید صاحب نے اپنی افتتاحی تقریب میں فرمایا: " آج کے لیکچر ا ر اُس عزت ، اُس شہرت اور اُس پائے کے انسان ہیں کہ شاید ہی کوئی صاحب نا واقف ہوں۔آپ اس عظیم الشان اور برگزیدہ انسان کے خلف ہیں جنہوں نے تمام مذہبی دنیا بالخصوص عیسائی عالم میں تہلکہ مچا دیا تھا۔“ جلسہ کے صدر کی افتتاحی تقریب کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی الصلح الموعود نے حضرت عثمان کے دور خلافت میں عبداللہ بن سبا اور اس کے باغی اور مفسد ساتھیوں کی سازشوں اور فتنہ انگیزیوں پر اتنی تفصیلی روشنی ڈالی اور تاریخ اسلام کی گمشدہ کڑیوں کو اس طرح منکشف اور واضح فرما کر سامنے رکھ دیا کہ سننے والے حیران رہ گئے۔آپ کی تقریر ختم ہونے پر صدر مجلس جناب سید عبدالقادر صاحب ایم۔اے نے فرمایا: حضرات ! میں نے بھی کچھ تاریخی اوراق کی ورق گردانی کی ہے اور آج شام کو جب میں اس ہال میں آیا تو مجھے خیال تھا کہ اسلامی تاریخ کا بہت سا حصہ مجھے معلوم ہے اور اس پر میں اچھی طرح رائے زنی کر سکتا ہوں۔لیکن اب جناب مرزا صاحب کی تقریر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میں ابھی طفلِ مکتب ہوں اور میری علمیت اور جناب مرزا صاحب