یادوں کے دریچے — Page 67
یادوں کے دریچ 67 اس کا جواب ملا کہ ناراضگی نہیں اس میں حکمت ہے اور وہ یہ کہ اندرونِ ملک جماعت جماعت کے نظام اور طریق کار کو ساری جماعت بخوبی جانتی ہے۔بیرونِ ملک جماعتیں ابھی پوری طرح نظام جماعت اور قواعد وغیرہ سے آگاہ نہیں۔اگر میری طرف سے اخراج کا فیصلہ اور اعلان ہوا تو متعلقہ فرد کو یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ اب ان کے لئے معافی کے سب دروازے بند ہیں۔تمہاری طرف سے اعلان ہوگا تو ان کو کسی قسم کی مایوسی نہ ہوگی۔کیونکہ معافی کے لئے خلیفہ وقت کا دروازہ وہ کھلا پائیں گے۔چنانچہ اس ہدایت پر عمل کیا گیا۔چند ماہ تک وہ باقاعدگی سے معافی کے خطوط حضرت صاحب کی خدمت میں لکھتے رہے مگر حضرت صاحب کی طرف سے ان کو کوئی جواب نہ جاتا تھا۔پھر معافی مانگنے کے لئے وہ خود تشریف لائے۔ملاقات کی اور معافی کی درخواست کی۔جس پر حضرت مصلح موعودؓ کی طرف سے ان کو معافی عطا کی گئی اور وہ خوش و خرم اپنے ملک واپس لوٹے۔چند سال کے وقفہ کے بعد وہ دوبارہ اس ملک کی جماعت کے پریذیڈنٹ مقرر کئے گئے۔استعدادوں کے مطابق کام کی ذمہ داری پوری کرنا کچھ سال بعد وکالت تبشیر کے علاوہ وکیل اعلیٰ اور پریذیڈنٹ تحریک جدید ( صدر تحریک جدید انجمن احمدیہ۔ربوہ ) کے محکمہ جات میرے سپرد فرما دیئے۔اتنی بڑی اور اہم ذمہ واریاں اٹھانا میرے بس کا روگ نہ تھا۔نہ میں اس قابل تھا۔لیکن قدم قدم پر آپ کی رہنمائی نے مجھے بہت سی لغزشوں سے محفوظ رکھا۔آپ کے اتنے بڑے احسان نے بڑی گہری یادیں چھوڑی ہیں۔آپ کے درجات کی بلندی کے لئے ہر دم دعا گو ہوں۔یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ یک دم سارے بوجھ نہ ڈالتے تھے۔تھوڑی تھوری ذمہ داری ڈال کر کڑی نگاہ رکھتے کہ اس میں کوئی کارکن پورا اترتا ہے یا نہیں۔اگر تسلی ہو جاتی تو پھر مزید ذمہ داری سپر دفرما دیتے۔گویا قدم بہ قدم ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالتے جاتے۔جس کا طبعی نتیجہ یہ ہوتا کہ اول آپ کو علم ہو جاتا کہ کون سا کارکن کس حد تک بوجھ اٹھانے کے قابل ہے اور دوئم کچھ عرصہ کی ٹرینگ کے بعد ہر کارکن کی استعدادوں کا علم بھی ہو جاتا۔نیز یہ بھی کہ اس کا کس کام کی طرف زیادہ رجحان ہے اور کس حد تک ذمہ داری اٹھا سکتا ہے۔صرف نظامِ جماعت سے منسلک کارکنان سے ہی نہیں جماعت کے دیگر افراد سے بھی آپ کا