یادوں کے دریچے — Page 30
30 پہلا فائدہ تو یہ ہوا کہ ہمیں ٹرانسپورٹ مل گئی اور ہم یورپ کی سیر کے لئے روانہ ہو گئے۔حضرت صاحب ان دنوں برائے علاج زیورک ( سوئٹرز لینڈ ) میں مقیم تھے اور میڈیکل سپیشلسٹ پروفیسر روسیئے“ کے زیر علاج تھے۔اپنے اس سفر میں باقاعدگی سے میں حضرت صاحب کو اپنے اگلے دنوں کے پروگرام جس جگہ جانا ہوتا تھا اس کا نام ، ہوٹل کا نام وغیرہ تفصیلاً لکھ دیتا تھا۔ہمارے سفر کے دوران حضرت صاحب چند ہفتوں کے لئے یورپ کے دو ملکوں میں تفریح کے لئے روانہ ہو گئے۔جن دنوں آپ ہیگ (ہالینڈ) میں تشریف رکھتے تھے ہمارا بھی اُدھر جانے کا پروگرام تھا۔حضرت صاحب کو میں نے فون پر اطلاع دی۔آپ نے فرمایا کہ تم ہمارے پاس ہی ٹھہر نا ( ہیگ میں ایک دو منزلہ کوٹھی کرایہ پر لی گئی تھی ) یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ مکرم چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب حضور کے سارے سفر میں ہم رکاب تھے اور چوہدری صاحب نے حضرت صاحب کو کوئی بے آرامی یا فکر یا پریشانی نہ ہونے دی۔بڑی تفصیل سے حضرت صاحب کے آرام اور سفر سے لطف اندوز ہونے کا اہتمام کرتے۔ہم ہیگ پہنچے، حضرت صاحب سے ملنے گئے تو مجھے مل کر فرمایا کہ الگ کمرہ تو کوٹھی میں نہیں ہے۔تمہیں مع بیوی اور بچی بہنوں کے ساتھ گزارا کرنا پڑتا اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تم ہوٹل میں ٹھہر و ، آرام رہے گا۔اس وقت چوہدری صاحب بھی حضور کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے چوہدری صاحب کو فرمایا کہ آپ مبارک کو کار میں لے جائیں اور کسی مناسب ہوٹل میں ان کے لئے کمرے کا انتظام کر دیں۔اخراجات کی رقم میں ادا کروں گا۔چوہدری صاحب مجھے لے کر روانہ ہو گئے۔ہیگ کے نواح میں ایک مشہور سیر گاہ بھی ہے اور ایک بہت مشہور ہوٹل بھی ہے جو کسی زمانے میں DUKE کا محل تھا جو کافی بڑے رقبہ میں ہے۔اس میں ایک جھیل بھی ہے۔موٹر بوٹس ہوٹل کے مہمانوں کے لئے میسر ہوتی ہیں۔وہاں جا کر چوہدری صاحب مجھے لے کر اندر RECEPTION میں گئے۔کمرہ ریز روکر وایا۔پہلے تو میں خاموش رہا لیکن پھر میں نے وہاں کھڑے کھڑے چوہدری صاحب سے کہا کہ اس قدر رقم خرچ کر کے یہاں رہنا مناسب معلوم نہیں دیتا۔کسی ستی جگہ لے چلیں یہ منسوخ کروادیں۔چوہدری صاحب نے مسکرا کر کہاں ”میاں میں نے آپ کے لئے یہ کام نہیں کیا۔آپ کے یہاں رہنے سے حضرت صاحب تفریح کے لئے یہاں شام کو آجایا کریں گے۔شام کی چائے جھیل کے کنارے کرسیاں لگوا کر ہوٹل کے ملازم سر و (Serve) کریں گے۔حضور پسند کریں تو تھوڑی دیر موٹر بوٹ میں جھیل کی سیر بھی کر سکیں گے۔اس ہوٹل میں مقیم مہمانوں کے علاوہ اس احاطہ میں اور کوئی نہیں آسکتا۔البتہ ہوٹل میں رہائش