یادوں کے دریچے — Page 31
یادوں کے در یح 31 پذیرا اپنے مہمانوں کو بلا سکتے ہیں۔اس طرح دو چار دن جب تک آپ یہاں مقیم ہیں حضرت صاحب کوسیر کی بہترین جگہ مل جایا کرے گی۔جب ہم واپس حضرت صاحب کی رہائش گاہ پہنچے اور چوہدری صاحب نے پہلے تو یہ اطلاع دی کہ ہوٹل میں کمرہ بک کر دیا ہے۔پھر حضرت صاحب کو اس ہوٹل کا مختصر سا تعارف کروا کے آمادہ کر لیا کہ اس شام سے ہی وہاں سیر کا پروگرام بنایا جائے۔( اس ہوٹل کا نام OUD CASTSEEL / OLD CASTLE ہے ) چنانچہ ہمارے اس جگہ قیام کے دوران ابا جان شام کو سیر کے لئے تشریف لاتے رہے۔زیورک میں مزید چند ہفتے علاج کے بعد حضرت صاحب لندن تشریف لے آئے۔لیکن ہم ابھی یورپ میں ہی گھوم رہے تھے اور پھرتے پھراتے دوبارہ ہالینڈ میں تھے کہ مجھے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کا خط ملا کہ حضور نے امریکہ، افریقہ اور یورپ کے انچارج مبلغین کی کانفرنس طلب فرمائی ہے جو فلاں تاریخ سے فلاں تاریخ تک لندن میں ہوگی۔اور حضور نے فرمایا ہے کہ بحیثیت وکیل التبشیر آپ کی شمولیت ضروری ہے اس لئے وقت پر واپس لندن پہنچ جائیں۔کانفرنس سے ایک روز قبل میں لندن پہنچ گیا۔جولباس شائستہ ہو وہ مسلمان پہن سکتا ہے کالج کے زمانہ میں اس حکم کے بعد جس میں یوروپین لباس نہ پہنے کاحکم تھا میں نے کبھی یورو چین لباس نہیں پہنا تھا۔یورپ کے اس سفر میں بھی میں نے اچکن ہی پہن رکھی تھی۔لندن پہنچ کر ابا جان سے ملنے ان کے کمرہ میں گیا۔اوپر نظر اٹھائی اور دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی سوٹ نہیں ہے؟ میں خاموش کھڑا رہا تو فرمایا کہ تمہارے دماغ میں اپنے کالج کا زمانہ آرہا ہو گا جب میں نے سوٹ پہنے کی ممانعت کی تھی۔تمہاری بات درست تھی کہ اسلام نے کسی خاص لباس پہنے کی کوئی تعلیم نہیں دی۔جو لباس شائستہ ہو وہ مسلمان پہن سکتا ہے۔میرا حکم اس لئے تھا کہ وہ انگریز کا زمانہ تھا۔انگریز حاکم تھا اور حاکم کے لباس کو اپنا نا غلامانہ ذہنیت کی دلیل ہے اور میں اپنی اولا د میں غلامانہ ذہنیت برداشت نہیں کر سکتا۔اب انگریز ہمارے ملک کا حاکم نہیں ہے اب اس لباس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔یہ کہہ کر اپنی چیک بک اٹھائی اور میرے نام چیک لکھ کر مجھے دیا اور فرمایا کہ بنے بنائے سوٹ