یادِ محمود ؓ — Page 44
44 شفقتیں دشمنوں پر بھی کرتا رہا وہ محبت کا اک بحر زخار تھا ڈانٹتا بھی رہا تربیت کے لئے اس کے غصے میں بھی ایک اک پیار تھا وہ مرقع تھا علم اور عرفان کا اک فراست، ذہانت کا پیکر تھا وہ معرفت کے خزانے تھے حاصل اسے بحر روحانیت کا شناور تھا وہ اس نے اپنی ذرا بھی تو پرواہ نہ کی اس کے دل میں تو بس اک یہی تھی لگن ہو خزاں کا تسلط گلزار پر لہلہاتا رہے دین حق کا چمن وہ کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کے رویا کیا کہ جماعت دنیا میں پھولے پھلے رحمت حق رہے اس سایه چشمہ فیض حق اس میں میں جاری جاری رہے کر کے نظر اہل دنیا کی حالت وہ کہ اشکوں کے موتی پروتا رہا وہ کہ سجدے میں گر کے بلکتا رہا اور جہاں چین کی نیند سوتا رہا