یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 45 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 45

45 شق ہو پتھر کا سینہ بھی سن کر جنہیں مبر ނ ایسی باتیں وہ سنتا رہا رہے خار دامن سے اس کے اُلجھتے وہ ہمارے لئے پھول چنا چتا رہا اُس کو اپنے پرائے ستاتے رہے پر ہمیشہ وہ حق بات کہتا رہا آنچ آنے نہ دی اس نے اسلام پر سینہ ہر وار سہتا رہا لطف و کرم اور اخلاق اخلاق سے وہ زمانے کو کو تسخیر کرتا رہا خون جگر پنے وہ اسلام کا نیا دور تحریر کرتا رہا دین احمد کی اس نے بقا کے لئے مال اپنا دیا اپنی جاں پیش کی اپنی اولاد کو وقف اُس نے کیا اپنے افعال اپنی زباں پیش کی تشنگی حالت رہی عمر بھر وہ شراب محبت ہی پنتا رہا اس کی ہر سانس تھی بس خدا کے لئے وہ محمد کی خاطر ہی جیتا رہا