یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 27 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 27

27 کی عطا جس نے جوانی ازسر نو دین کو جس نے بخشی ناتوانوں کو تواں جاتا رہا جس کو اپنی روح سے حق نے مشرف تھا کیا آسماں سے آکے سوئے آسماں جاتا رہا پا کے شہرت وہ کناروں تک زمین کے چل دیا مظهر حق و علا کا رازداں جاتا رہا کتنا سادہ ہے بشر کتنی غلط امید ہے جس کے جانے کا نہ تھا وہم وگماں جاتا رہا چاره گری شیوہ تھا جس ہمدرد کا درد کی چارہ دوستوں کو دے کے دردِ جاوداں جاتا رہا اے ہماری روح کی تسکیں کہاں پنہاں ہے تو اے ہمارے دل کی ٹھنڈک تو کہاں جاتا رہا کیا محبت کا صلہ اس کے سوا کچھ بھی نہیں ے کے ہم کو داغ دل اشک رواں جاتا رہا دیکھ کر جن کو مصیبت میں تڑپ جاتا تھا تو سے اب کیوں ان کو کر کے نیم جاں جاتا رہا تو ہنساتا تھا جنہیں وہ آج روتے ہیں تجھے روٹھ کر کیوں ہم سے اے جانِ جہاں جاتا رہا آج اپنے دردِ پنہاں کا گلہ کس سے کریں آر ہی جب سننے والا مہرباں جاتا رہا ستم گر موت تجھ کو موت آجاتی کہیں آه تو اللہ کے پیاروں بھی ملتی نہیں