یادِ محمود ؓ — Page 26
26 کی درد آه چاره گری کی التجا کس سے کریں جب چارہ گر درد نہاں جاتا رہا زخم کاری اک جدائی کا دلوں کو بخش کر چھوڑ کر احباب کو محو فغاں جاتا رہا روح حق کی برکتوں سے دے کے بہتوں کو شفا وہ دم عیسی و یار داستاں جاتا رہا کے ظلمت کدوں کو جس نے بخشی روشنی وہ رخشاں لٹا کر کہکشاں جاتا رہا آسمانی نقطہء نفسی کی جانب اٹھ گیا طائر سدره نشیں سوئے جناں جاتا رہا رستگاری کا تھا باعث جو اسیروں کے لئے بیکسوں کا دستگیر و پاسباں جاتا رہا جاتا رہا پاک لڑکا نام تھا جس کا عنموائیل بھی مهدی موعود کا وہ میہماں وہ مظفر جس خود اللہ نے بھیجا سلام قدرت ورحمت کا، قربت کا نشاں جاتا رہا پھونک کر سینوں میں اک نشوونما کی تازگی دے کے ہر دل کو امید نوجواں جاتا رہا کون کر سکتا اندازہ ہمارے کرب کا ہے جن کی بزم زیست کا روح رواں جاتا رہا