یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 40 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 40

40 نشان خوشا وہ وقت کہ ربوہ کی پاک بستی میں رحمت پروردگار باقی تھا خوشا وہ وقت کہ بیتابیوں میں سلیں بھی غم حیات میں اک غمگسار باقی تھا کیا تھا ناز ترے دور پر رسولوں نے خوشا وہ وقت کہ افتخار باقی تھا خوشا کہ شاد تھیں تیرے جمال سے آنکھیں سکون دل تھا میسر قرار باقی تھا آرزو تھی در و بام قادیاں دیکھیں تری نگاہ کو یہ انتظار باقی تھا بتائیں شفیق باپ انتظار تھا باقی کہ تھک نمود صبح صبح سے گئیں آنکھیں پہلے جھپک گئیں آنکھیں تو سو گیا ہے تجھے ہوشیار کون کرے جو دل پہ بیت گئی آشکار کون کرے درد کے غیر غمگسار نہیں وقار عشق کو خود شرمسار کون کرے جنہیں نصیب تھی تیرے کنار کی راحت کہاں وہ جائیں انہیں ہمکنار کون کرے کی تصویر تھی تری ہستی جو لاڈلے تھے ترے ان سے پیار کون کرے ترے دیار میں آئے تھے تیرے شیدائی نظر اداس ہے سیر دیار کون کرے جہان دل سے ہوئی ہے تری بہار وداع جہان دل کی خزاں کو بہار کون کرے ترا سفینہ نگاہوں سے ہو گیا او جھل تسلی نگہ اشکبار کون کرے ابھی تو دل میں نہاں تھے ہزار ہا ارماں ہجومِ حسرت دل کا شمار کون کرے ترے ملاپ کی ٹھہری ہے بات محشر یہ فاصلے تیری فرقت کے پار کون کرے میں انتظار کروں گا ترا قیامت تک مگر علاج دل بے قرار کون کرے وہ سوز و ساز محبت یه درد و داغ فراق یہ داستاں ہے دراز اختصار کون کرے ابھی تھا مرحلہ شوق میں جہاں اپنا! پر خدا پہ چھوڑ گیا ہے تو کارواں اپنا! ( سعید احمد اعجاز )