یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 39 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 39

39 مجھے یہ فکر نہیں آسماں رہے نہ رہے مه و نجوم کا یہ کارواں رہے نہ رہے مجھے یہ فکر نہیں آفتاب بجھ جائے مجھے یہ فکر نہیں کہکشاں رہے نہ رہے مجھے تو فکر تھی تیری ہی زندی کی فقط مجھے یہ فکر نہیں یہ جہاں رہے نہ رہے مجھے تو جان بہاراں فقط تھا تیرا خیال یہ اضطراب نہیں گلستاں رہے نہ رہے تیرے درود سے رہیں تھا آشیانِ حیات تو آشیاں میں نہیں آشیاں رہے نہ رہے مرے زمان ومکاں سے کیا ہے تو نے سفر مرے لئے یہ ” زمان ومکاں رہے نہ رہے تیری حکایت ہستی کا باب ختم ہوا کسی کی زیر فلک داستاں رہے نہ رہے خموش ہو گئی تیری زبان نکته کشا کسی فصیح کے منہ میں زبان رہے نہ رہے ترے غلام ترے آستاں پہ شاداں تھے جہاں میں اور کوئی آستاں رہے نہ رہے اب اور منزل ہستی میں دلکشی کیا ہے؟ ترے بغیر یہ عمر رواں رہے نہ رہے ترے بغیر منور ترے بغیر مکمل ره حیات نہیں! کائنات نہیں! ترے وجود سے اوج وقار باقی تھا تری بہار سے ناز بہار باقی تھا اگر چہ تیری علالت سے فکر مند تھے ہم دعائے دل پر ہمیں اعتبار باقی تھا مگر کچھ اور تھی رب جلیل کی مرضی دعا کے بعد اسے اختیار باقی تھا جوارِ عرش بریں میں بلایا ہے مجھ تجھ کو ترے لئے یہی فرمان یار باقی تھا خوشا وہ وقت کہ سالار کارواں تھا تو ترا خرام سر را بگزار باقی تھا خوشا وہ وقت کہ تھاما تھا تیرے دامن کو خوشا وہ وقت کہ تیرا کنار باقی تھا خوشا وہ وقت کہ سونپی تھی زندگی تجھ کو جہانِ دل ترا اختیار باقی تھا خوشا وہ وقت کہ اندیشہ گزند نہ تھا تری نگاہِ کرم کا حصار باقی تھا خوشا وہ رُت کہ شگوفے دلوں کے کھلتے تھے خوشا وہ وقت کہ دور بہار باقی تھا