وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 16

وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ — Page 14

14 اپنا مہر معاف کر دیا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔”ہم ایسی معافی کو جائز نہیں سمجھتے۔آپ اپنی بیوی کو مہر ادا کر دیں اور پھر اس کے بعد وہ اگر اپنی خوشی سے آپ کو مہر کی رقم واپس کر دے تو تب جائز ہو گا۔یہ صاحب کہیں سے قرض لے کر دوڑے ہوئے اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس کی جھولی میں مہر کی رقم ڈال دی۔اور پھر چند سیکنڈ انتظار کرنے کے بعد بیوی سے کہا کہ تم نے تو مہر معاف کر دیا ہوا ہے۔اب یہ رقم مجھے واپس کر دو۔اس نے کہا۔واہ! اب میں کیوں واپس کروں؟ میں تو سمجھتی تھی کہ آپ نے مہر دینا ہی نہیں اس لئے مفت احسان کیوں نہ رکھوں۔لیکن اب جب آپ نے مہر دے دیا ہے تو یہ میرا حق ہے۔میں اسے واپس نہیں کرتی۔بس یہی بات میں ހނ والدین اور بھائیوں سے بھی کہتا ہوں کہ فرضی معافیوں اور فرضی ادائیگیوں اپنے نفسوں کو دھوکا نہ دو۔یہ سب باتیں تقویٰ اور دیانت کے خلاف اور چالا کی اور ریا کاری میں داخل ہیں اور مومن کی شان سے کوسوں دور۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کشتی نوح میں فرماتے ہیں۔سنو اور غور کرو ا:- تم ریا کاری سے اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔کیونکہ وہ خدا جو تمہارا خدا ہے اس کی انسان کے پاتال تک نظر ہے۔کیا تم اس کو دھوکا دے سکتے ہو؟ پس تم سیدھے ہو جاؤ اور صاف ہو جاؤ اور پاک ہو جاؤ اور کھرے ہو جاؤ۔اگر ایک ذرہ تیرگی بھی تم میں باقی ہے تو وہ تمہاری