وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ — Page 13
13 پھر جب تم نے ( دینِ حق) کی شریعت کو سچا سمجھ کر اس کے نیچے اپنی گردنیں رکھ دیں اور احمدیت کی غلامی کو برضا و رغبت قبول کر لیا اور ( دین حق ) کو خدا کی ایک نعمت جانا تو پھر یہ اب کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک صداقت کو مان کر اس پر عمل کرنے سے انکار کرو۔یہ تو ایمان نہیں بلکہ منافقت ہے کہ منہ سے ایک بات کو مانو مگر اپنے عمل سے اسے دھتکار دو۔قرآن فرماتا ہے لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ یعنی تم منہ سے ایک ایسی بات کیوں کہتے ہو جس پر تم عمل کرنے کو تیار نہیں ؟“ بعض لوگ اس موقعہ پر یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اگر خود لڑکیاں اپنی مرضی سے جائیداد کی جگہ نقد روپیہ لینے کو تیار ہوں تو اس پر کیا اعتراض ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اگر نیک نیتی سے اور پاک و صاف دل سے ایسا کیا جائے اور اس میں کوئی پہلو دھوکے اور فریب کا نہ ہو اور نہ ہی جائیداد کی قیمت لگانے میں چالاکی سے کام لیا جائے اور لڑکیوں پر کسی قسم کا دباؤ بھی نہ ڈالا جائے تو بے شک فریقین کی کامل رضا مندی اور شرح صدر سے ایسا ہوسکتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ:- مگر مشکل یہی ہے درمیاں میں کہ گل بے خار کم ہیں بوستاں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے کہ ایک احمدی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ یا حضرت! میری بیوی نے اپنی خوشی سے مجھے