حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 5
یعنی محمد تو صرف ایک رسول تھے ان سے پہلے جو رسول گزرے ہیں وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔الخ۔لکھا ہے کہ حضرت عمرہ پر اس بات کے سننے سے اس قدر غم طاری ہوا کہ وہ زمین پر گیر گئے۔کیونکہ انہوں نے اس وقت محسوس کر لیا کہ یہ وفور عشق کا کرشمہ تھا کہ وہ رسول اللہ کو زندہ سمجھے رہے تھے ورنہ انکے پیارے آقا بھی اللہ کے صرف ایک رسول تھے جنہوں نے گزشتہ انبیاء کی طرح عورت کے دروازے سے گزرنا تھا۔اے اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی گذشتہ نبی اس وقت تک زندہ ہوتا تو حضرت ابو بکر کے اس استدلال پر کہ چونکہ پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔طبعا سید نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی فوت ہونا چاہیئے صحابہ کرام ضرور اعتراض کرتے اور خصوصا حضرت عمر اور انکے ہم خیال لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی تک زندہ تصور کر رہے تھے وہ ضرور چل اٹھتے کہ یہ کیا بات کہہ رہے ہو ؟ کیا مسیح ناصری زندہ نہیں ؟ ہذا ہمارا نبی بھی زندہ ہونا چاہیے۔مگر سب صحابہ خاموش ہو گئے گویا صحابہ کا سب سے پہلا اجماع اس بات پہ ہوا کہ گذشتہ انبیاء تمام کے تمام فوت ہو چکے ہیں۔غور کا مقام ہے کہ مسیح ناصری کی وفات پر یہ کیسی صاف اور واضح دلیل ہے۔دوسری آیت - آجکل دنیا کا ایک بڑا حصہ مسیح کو خدا مانتا ہے اس لئے اس حیثیت میں بھی قرآن مجید ان کی وفات کا ذکر کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ احْيَاءٍ وَ مَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ نه : - بخاری جلد اول، کتاب المناقب باب قول النبی نوكنت متخذا خليلاً - له : - النحل رکوع ۲ آیت :۲۲,۲۱ -