حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال

by Other Authors

Page 4 of 31

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 4

یعنی جویں پیغمبر گذر سے زندہ رہیا نہ کوئی تیویں محمد ہے نہ دائم موت ہند سے سر ہوئی اسے د تیسرا اس آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے خلا کے معنوں کی تعیین کر دی ہے جیسا کہ فرمایا : آفَانْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ یعنی اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طبعی موت سے مر جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو گویا اس جگہ لفظ خَلَتْ کے معنی لازمی طور پر ان دو صورتوں میں سے ایک ہونے چاہئیں یعنی یا تو یہ کہ وہ طبعی موبت سے سرگئے اور یا وہ قتل ہوئے۔الفاظ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ صاف مبتلا سے ہے ہیں کہ گذشتہ انبیاء کا گذر جانا دو صورتوں میں ہوا یا قتل سے یا طبعی موت ہے۔اب جبکہ حضرت مسیح کے بارے میں خُدا تعالے نے دوسری جگہ وَمَا قَتَلُوهُ " فرما کر فیصلہ کر دیا کہ و قتل نہیں ہوئے لہذا ایک ہی صورت رہ گئی کہ وہ طبعی موت سے مرگئے۔وفات سینے پر صحابہ کا اجماع (چوتھا، اس آیت کے معنے اور بھی زیادہ واضح ہو جاتے ہیں جب ہم اس کو ایک مشہور تاریخی واقعہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔بخاری شریف میں لکھا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو ایسا اتفاق ہوا کہ حضرت عمرض ابھی تک آپ کو زندہ ہی سمجھ رہے تھے اور کہتے تھے آپ پھر واپس آجائیں گے اور کفار اور منافقین کا قلع قمع کریں گے وہ اپنے اس خیال پر اس قدر مجھے ہوئے تھے کہ انہوں نے تلوار کھینچ کر اعلان کرنا شروع کیا۔کہ جو کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت شدہ کہے گائیں اس کی گردن اڑا دوں گا۔اس وقت حضرت ابو بکر صدیق نہ کھڑے ہو گئے اور صحابہ کے سامنے یہی آیت پڑھی کہ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ - له تفسیر محمدی ۳ منزل اول حافظ الصمد بن عارف مطبع محمدی واقع التهور : ہے :- آل عمران : ۱۴۵ :