حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 21
۲۱ یہ قرآنی آیات فیصلہ کرتی ہیں کہ جو شخص مر جاوے وہ قیامت سے پہلے دنیا ہی نہیں واپیس سکتا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث اس مسئلہ کو بالکل صاف کرتی ہے۔جنگ اُحد میں حضرت جائزا کے والد شہید ہو گئے۔حضور فرماتے ہیں کہ شہادت کے بعد جب ان کی روح خدا کے حضور پیش ہوئی۔تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا تم کیا مانگتے ہو تو انہوں نے عرض کی یا باری تعالیٰ میری یہ آرزو ہے کہ میں دوبارہ دنیا میں جاؤں اور پھر تیرے راستہ میں مقام شہادت حاصل کروں۔خُدا تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا۔سبَقَ الْقَوْلُ مِنِّي أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ : له یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ میں پہلے سے اصولی فیصلہ کر چکا ہوں کہ جولوگ مر جاتے ہیں۔وہ پھر اس دنیا میں واپس نہیں آئیں گے۔تیسرا شبہ : ایک تیسرا براشیہ جو عام مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب احادیث میں صریحا آتا ہے کہ تمہیں ان مریم آئیں گے یا نازل ہونگے تو ہم کیونکرنہ یہ سمجھیں کہ ابن مریم تو ایک ہی ہوئے ہیں اور وہ حضرت عیسی اسرائیلی نبی ہیں اور وہی بنفس نفیس دوبارہ دنیا میں آئیں گے لہذا وہ زندہ ہیں۔جواب :۔اس سوال کا جواب سمجھنے سے پہلے تین امور پر غور کرنا ضروری ہے۔اول یہ کہ احادیث کے متعلق یہ قاعدہ ہے کہ جو حدیث قرآن شریف یا احادیث صحیحہ کے برخلاف نظر آئے اس کے معنے کرتے وقت یہ اصول ذہن نشین کرنا پڑتا ہے کہ ایسے معنے کئے جائیں جو مشران اور احادیث صحیحہ کے برخلاف نہ ہوں۔اس اصول کی بناء پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن عیسی کو وفات شدہ مانتا ہے اور احادیث صحیحہ گواہی دیتی ہیں کہ مسیحی فوت ہو گئے اور سنت اللہ بھی اسی کی تائید - تریدی عبد الثاني، كتاب التفسير باب ماجاء في الذي يفير القران برايا، ومن سرد ال عمران -۔