حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 22
کرتی ہے۔تو یہ حدیث جس میں مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی ہے لا محالہ اس کے یہی معنے کئے جائیں گے کہ ابن مریم سے مراد کوئی ایسا فرد ہے جو ابن مریم کی صفات اپنے اندر رکھتا ہو نہ کہ پہلے مسیح کیونکہ جب ثابت ہو گیا کہ پہلے سے فوت ہو گئے اور قرآن ہرگز اجازت نہیں دنیا کہ وفات یافتہ انسان دوبارہ دنیا میں آئیں تو ابن مریم سے مراد مثیل ابن مریم ہے۔دوسرا امر یہ ہے کہ خود استحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے پیش گوئی کی ہے انہوں نے ایسی کیا مراد لیا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابن مریم کی جن احادیث میں پیش گوئی بیان کی گئی ہے وہاں ساتھ یہ الفاظ بھی تشریحی طور پر ند کو رہیں کہ آپ نے ساتھ یہ بھی فرمایاکہ وہ اِمَامُكُمْ مِنْكُم به گروه ابن مریم جو تم میں آئے گا وہ تمہارا امام ہوگا۔اور اسے مسلمانو ! وہ تم میں سے ہو گا۔غرض مسیح موعود کے متعلق اما مكُمْ منکم کے الفاظ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سار سے جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے۔اور شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ یہ مت سمجھنا وہ پہلے بیٹے ہیں۔بلکہ وہ بیج محمد ٹی تم میں سے ہوگا۔الغرض منم کا لفظ مسیح ناصری کے متعلق ساری امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔تیسری یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے۔کہ یہ سنت الہیہ ہے کہ جب کبھی کسی نبی کے متعلق اس کی آمد ثانی کی پیشگوئی کی جاتی ہے تو اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ خود دوبارہ دنیا میں آئے گا بلکه است مراد یہ ہوتا ہے کہ اس کا کوئی مثیل دنیا میں آئے گا۔دیکھو اس کا ایک نمونہ ہمیں پہلے نبیوں کی تاریخ میں ملتا ہے۔ملا کی نبی کی کتاب میں یہ وعدہ کیا گیا تھا۔کہ مسیح ناصری سے پہلے الیاس یعینی ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔تب مسیح آئے گا۔اب اس پیشگوئی سے یہود یہی سمجھے کہ وہ ایلیا جو پہلے گزر چکا ہے وہی بذات خود نازل ہوگا اور اس کے بعد موسوی سلسلہ کا مسیح آئے گا۔اس لئے جب حضرت عیسے نئے مسیحیت کا دعویٰ کیا تو یہود نے صاف انکار کر دیا۔اور کہا کہ ہماری کتابوں میں :- بخاری جلد اول کتاب الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم -