حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال

by Other Authors

Page 20 of 31

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 20

زندہ ہیں اور عوام الناس نے انہیں سے یہ عقیدہ سن کر اپنے دلوں میں راسخ کر لیا۔چنانچہ علامہ ابن کثیر رکھتے ہیں :۔فَفِي زَادِ الْمَعَادِ لِلْحَافِظِ ابنِ القَيمِ رَحِمَهُ الله تعالى مَا يُذْكَرُ انَّ عِيسَى رُفِعَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثٍ وَ عِشْرِينَ سَنَةٌ لا يُعْرَتُ بِهِ أَتْرُ مَتَصَل يَجِبُ الْمَصِيرُ إِلَيْهِ قَالَ الشَّافِي وَهُوَ كَمَا قَالَ فَإِنَّ ذَالِكَ إِنَّمَا يُرْوَى عَنِ النَّصَارِى له یعنی حافظ بن قیم کی کتاب زاد المعاد میں لکھا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسی ۳۳ سال کی عمر میں اٹھائے گئے اس کی تائید کسی حدیث سے نہیں ہوتی۔تاکہ اس کا مانا واجب ہو شامی نے کہا ہے کہ جیسا کہ ابن القیم نے فرمایا ہے۔فی الواقعہ ایسا ہی ہے اس عقیدہ کی بنا حدیث رسول پر نہیں بلکہ یہ نصاری کی روایات ہیں۔دوسرا شبہ :۔بعض لوگ کہتے ہیں۔مان لیا حضرت عیسے فوت ہو گئے ہیں۔لیکن کیا اللہ تعالی قادر نہیں ہے کہ انہیں دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں لاو سے۔اس کا جواب یہ ہے کہ مردوں کا زندہ ہو کر دوبارہ دنیا میں آنا اسلامی تعلیم اور سنت الہیتہ کے سراسر خلاف ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " وَحَرَاهُ عَلَى قَرْيَةٍ اَ ريَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ، أَنَّهُمْ لا يُرْجِعُونَ یعنی جن لوگوں کو ہم مار دیتے ہیں ان پر حرام ہے کہ وہ اس دنیا کی طرف واپس لوٹیں۔پھر فرماتا ہے : وَمِن وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔ل یعنی جو لوگ مر جاتے ہیں ان کے اور اس دنیا کے درمیان ایک روک ہو جاتی ہے جو قیامت کے دن تک رہے گی۔فتح البیان جلد ۲ ۲ از غلام ابن کثیر مطبوعه مصر ۱۳۰۰ ه : ے :۔سورہ الانبیاء پاره ۱۷ آیت : ۹۶ : تے :۔سورہ المومنورضيع أميت : 101 بين