حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 23
۳۳ تو یہ لکھا ہے کہ مسیح سے پہلے ایلیا نبی آسمان سے اُترے گا۔چونکہ ایلیا ابھی تک نہیں آیا لہذا عیلی کا دعوی سچا نہیں ہو سکتا۔اس کا جواب عیسی نے سنت اللہ کے مطابق یہ دیا کہ ایلیا کی جو پیش گوئی کی گئی تھی اس سے خود ایلیا کا آنا مراد نہیں تھا۔بلکہ وہ استعارہ کے رنگ میں ایسے نبی کی خبر تھی جو ایلیا کی خو بو پر آئے گا۔اور وہ آچکا ہے اور وہی یحیی ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔دمتی بابا) لیکن ظاہر پرست یہودی اس بات پر جمے رہ ہے کہ خود ایلیا کا دوبارہ آنا لکھا ہے اس لئے بیٹی کا آنا اس کا آتا نہیں ہو سکتا اور اس طرح وہ نجات سے محروم ہو گئے۔اس مثال سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ پیش گوئیوں میں آئندہ آنے والے صلحین کے جو نام بتائے جاتے ہیں ان کو ہمیشہ ظاہر پر حمل کرنا سخت ہلاکت کی راہ ہے۔پس ابن مریم کی پیشگوئی بھی اسی سنت الہیہ کے مطابق پوری ہوئی اور امت محمدیہ میں سے ایک ایسا فرد پیدا ہوا جس کا نام آسمان پر ابن مریم رکھا گیا۔چوتھا شہہ :۔ایک شبہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم میں صرف عیسی علیہ السّلام کے بار سے میں یہ ذکر ہے کہ بلْ تَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ او الفاء : ۱۵۹) کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسے کو اپنی طرف اُٹھا لیا۔لہذا ثابت ہوا کہ عیسی آسمان پر اُٹھا لئے گئے اور وہ زندہ ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق رفع کا لفظ آتا ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ کس طرح اور کس طرف رفع ہوا۔قرآن شریف کے الفاظ یہ ہیں :- بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ (النساء : ۱۵۹) (104) یعنی اللہ تعالیٰ نے مسیح کو اپنی طرف اٹھا لیا۔اب اگر خدا کی طرف اُٹھائے جانے کے معنے آسمان کی طرف اُٹھائے جانے کے کئے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ آسمان تک محدود ہے۔کیا اسلامی تعلیم کی رو سے خُدا ہر جگہ حاضرو ناظر نہیں ! کیا وہ زمین پر موجود نہیں ؟