حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 24
تو جب خدا ہر جگہ موجود ہے تو مسیح کے رفع الی اللہ کا معنی یہ ہوا کہ وہ خدا کا مقرب بندہ تھا اور اس کی روح کا خدا کے ساتھ تعلق تھا۔نہ یہ کہ وہ آسمان پر چلا گیا۔تمام مقر بان الہی آسمان کی ہی طرف اٹھائے جاتے ہیں اس میں سیخ کی کوئی خصوصیت نہیں۔یہ چند آیات اس معنیٰ کو واضح کرتی ہیں :۔ہر نیک انسان کو خدا تعالی کہتا ہے :- يا يتهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبَّكِ - (الفجرآت : ۲۸) یعنی اسے اطمینان یافتہ نفس تو اپنے خُدا کی طرف لوٹ آ۔حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بلعم باعور کی نسبت فرمایا۔وَلَوْ شِتُنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَ لكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ١) یعنی اگر ہم چاہتے تو ان نشانوں کے ذریعہ اس کا رفع کرتے لیکن وہ تو خود زمین کی طرف جھک گیا۔- حضرت ابراہیم نے کہا۔اني ذاهب إلى رتي - (سورة الصافات : 1٠٠) یعنی میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں۔- ہر مسلمان اس کلمہ سے واقف ہے۔- " إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔(سورة البقره: ۱۵۷) یعنی ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہم جائیں گے۔ہاں کا فروں اور بدکاروں کے متعلق ہے کہ ان کی ارواح آسمان پر نہیں جاسکتیں۔ان الذينَ كَذَّبُوا بِايْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتِّحُ لَهُمْ ابْوَابُ السَّمَاءِ (اعراف (۳۱) کہ مکڈ ہوں اور تکبروں کیلئے آسمان کے درواز سے نہیں کھیلتے۔اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ حضور صل الل علیا کم نماز میں یہ دعا پڑھتے " وار فنی ، اے اللہ مجھے رفع عطا کر۔الغرض یہ بات یقینی ه ابن ماجہ ابواب الصلوۃ باب ما يقول بين السجدتين۔