واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 71 of 142

واقعات صحیحہ — Page 71

اے معیار ٹھہرائیں گے۔اس بنا پر حضرت مرزا صاحب نے علمائے ظاہری سے علوم ظاہر اور رسمی کی بنا پر بھی مباحثات کئے اور خدا تعالیٰ کے اذن وحول سے اُن کی لمبی خرطوموں کو گرم ہتھیاروں سے خوب داغ لگائے۔اور آخر دیکھ کر کہ مباحثات نظری امور ہوتے ہیں اور فیصلہ کی کھلی اور روشن راہ ان سے پیدا نہیں ہوتی۔ایک عرصہ تک اپنی قدرت اور طاقت کی جلوہ نمائی کے بعد ان سے پہلو تہی کی اور آسمان کی طرف توجہ کی تب خداوند علیم نے ایک متین اور بدیہی راہ دکھائی جس کی وضاحت کے بعد کسی شخص کو شک و تردد کا موقع مل ہی نہیں سکتا۔اب اگر قوم انصاف نہیں کرتی تو دوسری قوموں کے منصف، نیک دل لوگ انصاف کریں کہ حضرت مرزا صاحب نے پیر مہر علی شاہ صاحب کو جو یہ دعوت کی تھی تو کیا نا روا حرکت کی ہے۔کیا یہی دعوت اُن کی شان کے شایان نہ تھی۔کیا وہ ولی اللہ نہیں ! کیا وہ مطہر نہیں ! کیا انہیں خدا کی حریم قدس میں باریابی کا شرف حاصل نہیں ! کیا وہ زبان عربی سے واقف نہیں ! یا وہ قرآن کریم کے معارف سے مس نہیں رکھتے ! ہاں تو کیا اُن کے شان کے لائق تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کی گدی پر انہیں بٹھایا جاتا اور ان سے استنجا اور قلتین اور بیع وشرا کے مسائل پر بحث کی جاتی یا رفع یدین آمین بالجہر کے نزاعوں کا فیصلہ کیا جاتا۔ان کو لفظی بحثوں اور ظاہری علوم کی بحثوں کی طرف بلانا یقیناً اُن کی کسر شان تھی۔حضرت مرزا صاحب نے اُن کا وہ پاس کیا اور ان کے حق کی وہ رعایت کی جس کے وہ درحقیقت مستحق تھے۔لیکن افسوس صد افسوس پیر صاحب نے اس دعوت کو رڈ کیا اور بری طرح رڈ کیا۔اور سخت نا قابل عفوحیلوں سے رد کیا۔پیر صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے جواب میں یہ لکھا کہ اول مرزا صاحب اپنے دلائل پر کھڑے ہو کر تقریر کریں اور اُنہی نظری اور علمی باتوں کو پھر دہرائیں اور عوام و خواص کے مخلوط مجمع میں دہرائیں جو وہ سالہا سال سے اپنی کتابوں اور رسالوں اور اشتہاروں میں لکھ رہے ہیں اور وہ وہی باتیں ہیں جن پر علمائے رسوم اعتراض اور ردلکھ چکے ہیں اور خود پیر صاحب یا اُن کے مرید غازی صاحب بھی اُن کی نسبت خامہ فرسائی کر چکے ہیں اور وہ باتیں ہیں جو فطری ہونے کے باعث ہنوز یر بحث ہیں۔غرض مرزا صاحب اُن دلائل کو بیان کریں۔اس کے بعد پیر مہر علی شاہ صاحب اٹھ کر ان کا رد کریں۔اور ان کی باتیں بھی اُسی رنگ کی نظری اور اخفا اپنے اندر رکھنے والی ہوں۔اور پھر مولوی محمد