واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 70 of 142

واقعات صحیحہ — Page 70

وقت وکہف زمان اور ملجا و ما وائے انس و جان آپ ہی ہیں حضرت مرزا صاحب کے فرقہ سے وابستہ ہزاروں آدمی ہیں جو اپنا سب کچھ آپ کے ہاتھ میں دے چکے ہیں۔پیر صاحب سے منسوب بھی بہت سے لوگ ہیں جو اُن کی مریدی پر ناز کرتے ہیں۔میں خدا ترس اور اہل دل مسلمانوں سے مشرق کے ہوں یا مغرب کے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسے مشتبہ وقت میں موزوں تھا کہ ہم لوگ بھی نصاری کی طرح ناقص اور سخت نا کافی انجیل کے سبب سے سراسیمہ اور سرگردان ہوتے اور کتاب اللہ میں کوئی نور جو اس پیش آمدہ ظلمت کو پاش پاش کرتا نہ پاتے اور خود اپنی ہی تجویزوں اور اندیشوں سے کوئی جعلی اور مصنوعی نا کافی راہ پیدا کرتے۔مگر نہیں نہیں۔خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لئے کہ ہم امت مرحومہ تھے ایسی زحمتوں اور کشاکشوں سے محفوظ رکھا اور خود ہی اپنے علم سابق سے ان سب باتوں کا پورا انتظام کر دیا۔پیر۔صوفی۔قطب۔غوث۔ولی اللہ۔درویش اور سند الوقت مہر علی شاہ صاحب کی خدمت میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اس نزاع کے وقت وہی طریق فیصلہ پیش کیا جو خدا وند علیم حکیم نے ایسے اوقات میں ایسے اشخاص کے نزاعوں اور اختلافوں کی ا حکومت کی غرض سے مقرر کر رکھا تھا۔اے قرآن کریم کو کامل اور مہیمن کتاب ماننے والو! اور ظلمات کے اوقات میں اسے یگانہ نور تسلیم کرنے والو! اپنی جانوں پر ترس کھا کر خدا تعالیٰ کے لئے بتاؤ کہ کوئی اور راہ بھی تھی جو اس سے بہتر تھی۔اس راہ کے پیش کرنے سے معا دو باتیں حاصل ہوتیں۔ایک تو قرآن کریم کی پیش گوئی پوری اور اُس کا خدا کا کلام ہونا اور علوم غیب اور غیب کے دعووں پر مشتمل ہونا ثابت ہو جاتا اور دوسری بات ایک شخص کا منجانب اللہ ہونا اور مقرب اور مطہر ہونا ثابت ہو جا تا۔اب خدا را فرمائیے کہ کیا حضرت مرزا صاحب پیر، صوفی ، اہل اللہ مہر شاہ صاحب کو مولویا نہ دعوت کی طرف بلاتے اور یہ کہتے کہ آؤ ہم تم مولویا نہ لفظی بحث کر لیں اور ہار جیت پر فیصلہ ہو جائے گا کہ راستی کس کی طرف ہے۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اس لئے کہ زمانہ کی ضروریات کے جامع اور رسمی اور روحانی علوم سب کے مستجمع ہو کر آئے ہیں اور خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ علمائے خشک اُن کے مقابل اپنی سونڈیں لمبی کریں گے اور علوم رسمی کے مباحثہ کی طرف بھی بلائیں گے اور انہی سطحی اور خشک مباحثات کو حق و باطل کا