واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 35 of 142

واقعات صحیحہ — Page 35

۳۵ اور واقعات کا اظہار گالی نہیں ہوتی۔کیونکہ اگر اس کو تم گالی سمجھو تو پھر تمہارا اعتراض قرآن شریف پر وارد ہوتا ہے۔کیونکہ قرآن شریف میں کفار کے حق میں سخت الفاظ استعمال کئے گئے گئے ہیں۔نوٹ:۔اس جگہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ قرآن شریف تو خدا کا کلام ہے خدا کو اختیار ہے وہ جسے چاہے برا کہے مرزا صاحب کون ہوتے ہیں جو کسی کے حق میں سخت لفظ لکھیں تو بجواب عرض ہے کہ قرآن شریف کو خدا کا کلام ماننے والے تو آنحضرت مے کے ابتدائی وقت میں صرف تھوڑے سے مسلمان ہی تھے۔کفار تو اس وقت بھی یہی اعتراض کرتے تھے کہ محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم ) لوگوں کو گالیاں دیتا پھرتا ہے۔سو آپ بھی اعتراض کرنے والے تو مکذبین اور منکرین ہی ہیں ورنہ ہم تو مانتے ہیں کہ مرزا صاحب جو کچھ کہتے اور لکھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی رضا مندی کے نیچے ہے۔اور علاوہ ازیں اگر خدا تعالیٰ نے کسی کلمہ کو مکذبین کے حق میں بولنا اپنے کلام میں جائز کر دیا ہے تو وہ کافی سند ہے اس بات کے واسطے کہ ان کلمات کا اپنے محل اور موقع پر بولنا جائز اور ضروری ہے۔اعتراض۔قیامت نہیں ہوگی۔تقدیر کوئی نہیں ہے۔صفحہ دوم ٹائٹل پیج ازالہ اوہام جواب اس صفحہ میں مطلقاً یہ الفاظ نہیں ہیں اور ایسے اتہام کے جواب میں ہم سوائے اس کے کیا کہیں کہ لَعْنَةُ الله عَلَى الْكَاذِبِین - آخر انسان کہلاتے ہو۔کچھ تو سچ بولو۔حضرت مرزا صاحب نے اپنی کئی ایک کتب مثلاً کتاب البریہ برکات الدعا وغیرہ میں مسئلہ تقدیر اور قیامت کے ثبوت میں مفصل بیان کیا ہے۔غرض اور بھی بہت سے اسی طرح کے اتہام اور افترا ہیں جو کہ ہم پر باندھے گئے ہیں اور پیر صاحب کے اشتہار کے ساتھ شائع کئے گئے ہیں اور اس جگہ ہم نے نمونے کے طور پر چار باتیں ایسی لکھ دی ہیں جن سے پبلک اندازہ کر لے کہ ہمارے مخالف ہم پر جو اتہام