واقعات صحیحہ — Page 32
۳۲ جماعت مریدان حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود از لاہور ۱۹ اگست ۱۹۰۰ء بسم اللہ الرحمن الرحیم والصلوۃ والسلام على رسولہ الکریم ان يرواسبيل الرشد لا يتخذوه سبيلا) کوئی سیدھی اور بھلائی کی بات ہو تو اُس کو اختیار نہیں کرتے پیر گولڑوی کا مرزا صاحب کے مقابلہ سے انکار حضرت امامنا مرزا صاحب نے پیر مہر علیشاہ صاحب گولڑوی کو جو دعوت کی تھی کہ بالمقابل تفسير القرآن بعد دعا کے لکھیں۔اس سے پیر گولڑوی نے انکار کر دیا ہے اور مرزا صاحب کی کسی شرط کو بھی منظور نہیں کیا۔بلکہ روباہ بازی اور ابلہ فریبی کے ساتھ اپنی طرف سے یہ لکھ دیا ہے کہ زبانی مباحثہ کرتا ہوں حالانکہ حضرت مرزا صاحب نے قبولیت دعا اور تفسیر قرآن میں مقابلہ کا اشتہار دیا ہے۔اگر پیر گولڑوی کے مریدوں کو اپنے پیر کی ایمانداری یا اس کی دعا کی قبولیت کا کچھ یقین ہے تو چاہئے کہ مرزا صاحب کی شرائط ان سے منظور کرائیں۔اور دعا اور معارف قرآنی میں مقابلہ کرائیں جو کہ انبیاء کی سنت ہے۔ورنہ پیر گولڑوی کا تفسیر لکھنے کی نا قابلیت اور دعا کے نہ قبول ہو سکنے کے یقین کے سبب بھاگ جانا اور بے جا حیلہ و عذر تر اشنا ثابت ہو گیا۔اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ پیر گولڑوی ہرگز ہرگز مرزا صاحب کے مقابل میں تفسیر عربی نہیں لکھ سکتا اور نہ پیر گولڑوی کی دعا مرزا صاحب کے مقابل میں قبول ہو سکتی ہے اور اگر وہ مرزا صاحب کے مقابل میں تفسیر لکھ کر غالب آ جاوے تو ہم ایک ہزار روپیہ نفقد اُس کی نذر کریں گے۔اور اُس کے فریب پر روشنی ڈالنے کے واسطے عنقریب حضرت مرزا صاحب کی طرف سے بھی ایک اشتہار آتا ہے اور ہمارے اشتہار مؤرخہ ۱۹ اگست اور مولوی سید محمد احسن صاحب کے اشتہار مؤرخہ ۱۴ اگست میں بھی مہر علیشاہ زیر بحث