واقعات صحیحہ — Page 28
۲۸ اگر چہ تھوڑا سا ہی بنا کر دکھلاؤ۔اور یاد رکھو کہ تم نہیں بنا سکو گے۔یہ ایک معجزہ تھا حضرت رسول اکرم کا جو قیامت تک کفار کا سر نیچے دبائے رکھے گا۔قاعدہ کی بات ہے کہ نائب اپنے منیب کے قدم پر چلتا ہے۔اور خادم اپنے مخدوم کے رنگ میں رنگین ہوتا ہے۔اس زمانہ میں جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو اللہ تعالیٰ نے دین محمدی کی خدمت کے واسطے اور خدا کی تو حید اور جلال کو دنیا میں قائم کرنے کے واسطے مبعوث کیا اور ان کو اس وقت کا امام مقرر کیا اور اپنے کلام سے مشرف کیا اور اُن کو مسیح موعود و مہدی موعود بنایا۔تو باوجود یکہ ایک صدی کے سرے پر امام کا پیدا ہونا حدیث شریف میں درج ہے۔اور یہ صدی کا سرا ہے اور اس صدی کا امام بسبب فتنہ عیسوی کے ضرور ہے کہ مسیح ہو۔اور حضرت اقدس مرزا صاحب کی تائید میں قرآن شریف اور احادیث سب موجود ہیں۔اور آسمان سے بھی سورج اور چاند نے رمضان میں گواہی دے دی ہے۔مگر پھر بھی منکرین ہیں کہ اعتراض سے باز نہیں آتے اور آئے دن کوئی ادھر سے بول اٹھتا ہے کہ یہ قادیان جانے والے کو جادو کر دیتا ہے کوئی اُدھر سے کہتا ہے کہ یہ کاذب ہے اور وہی اعتراض جن کے جواب سینکڑوں دفعہ کتابوں اور رسالوں میں دیئے جاچکے ہیں۔پھر پھر دُہرائے جاتے ہیں۔اس واسطے مرشد نا حضرت مرزا صاحب مسیح موعود و مہدی موعود نے بھی اپنے پیشوا علیہ الصلوۃ والسلام کے رنگ میں مکذبین کو للکارا کہ بحث و مباحثہ تو بہت ہوئے اور ہر طرح سے قرآن و احادیث کے دلائل دیئے گئے۔پر تم باز نہیں آتے۔اچھا اب فیصلہ کا طریق یہ ہے کہ جیسا قرآن شریف کا یہ معجزہ ہے کہ ویسا کوئی کلام نہیں بنا سکتا۔ایسا ہی ہماری طرف سے یہ نشان ہے کہ ہمارے مخالفین میں سے کسی پر بھی اس کلام کے معارف اور دقائق نہیں کھلتے خواہ وہ مخالف دنیا کے کسی حصہ میں ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے درمیان کوئی جھگڑا پڑ جاوے۔تو اللہ اور رسول پر اس کا فیصلہ چھوڑو۔اب یہاں جھگڑا یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنے دعوی مسیحیت و مہدویت میں صادق ہیں یا اُن کے مخالف و مکذب ان کی تکذیب میں صادق ہیں۔اچھا اس جھگڑے کو فرقان حمید کے پیش کرو۔وہ کیا فیصلہ دیتا ہے۔فرقان حمید کہتا ہے کہ خدا کے برگزیدہ کا یہ نشان ہے کہ اس سے ایسی کرامات ظاہر ہوتی ہیں جو اس کے مخالفوں سے نہ ہوسکیں اور اُس پر