واقعات صحیحہ — Page 29
۲۹ قرآن شریف کے معارف کھلتے ہیں۔اور تیسرا یہ کہ اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔سو حضرت مرزا صاحب نے ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ء کو ایک اشتہار مہر علی شاہ صاحب گولڑ وی (جن کو بیٹھے بٹھائے یہ شوق چرایا ہے کہ ہم بھی مرزا صاحب کی مخالفت میں طبع آزمائی کریں اور یہ نہ سوچا کہ دوسروں نے اپنی پردہ دری کے سوا اور کیا لے لیا ہے جو آپ نے لینا ہے ) اور دیگر تمام مخالفین کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ آؤ تم سب لاہور میں جمع ہو جاؤ۔قرآن شریف کی چند آیات قرعہ اندازی سے لے کر اس کی تفسیر زبان عربی میں لکھیں کیونکہ عربی بہشت کی بولی ہے۔اور قرآن مجید اس میں نازل ہوا۔اور اس کے ذریعہ سے بھی انسان کی مناسبت رسول عربی اور قرآن عربی کے ساتھ معلوم ہوسکتی ہے۔اور دعا کریں کہ جو خدا کے نزدیک صادق ہے اُس کے کلام میں فصاحت اور معارف ہوں۔اس طرح سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ دعا کس کی قبول ہوتی ہے اور یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن کریم کے معارف کس پر کھلتے ہیں اور مومن اور صادق کون ہے۔وو یہ ایک طریق ہے جس سے ثابت ہو سکتا ہے کہ قرآن شریف کس کے حق میں مومن ہونے کا فیصلہ دیتا ہے۔مگر جب یہ اشتہار پیر گولڑوی کو ملا تو معلوم ہوتا ہے کہ پیر گولڑوی دل ہی دل میں گھبرائے اور حیران و ترساں ہوئے۔کیونکہ اتنی لیاقت کہاں کہ عربی میں تفسیر لکھیں ، اور ایسا ایمان کہاں کہ قرآن شریف کے معارف کھلیں اور دعا قبول ہو پس آپ نے سوچا کہ کوئی ایسی تجویز نکالوجس سے یہ مقابلہ بھی نہ ہو اور مریدوں میں بھی کچھ رہ آوے۔اور بنی بنائی عزت پر بھی مٹی نہ پڑ جاوے۔کیونکہ حضرت امامنا مرزا صاحب نے صاف طور پر زور سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ” میرا غالب رہنا اسی صورت میں متصور ہوگا کہ جب مہر علیشاہ صاحب بجز ایک دلیل اور قابل شرم اور رکیک عبارت لغو تحریر کے کچھ بھی نہ لکھ سکیں۔اور ایسی تحریر کریں جس پر اہل علم تھو کیں اور نفرین کریں۔کیونکہ میں نے خدا سے یہی دعا کی ہے کہ وہ ایسا ہی کرے۔اور میں جانتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔اور اگر مہر علیشاہ صاحب بھی اپنے تئیں جانتے ہیں کہ وہ مومن اور مستجاب الدعوات ہیں تو وہ بھی ایسی ہی دعا کریں اور یاد رہے کہ خدائے تعالیٰ اُن کی دعا ہرگز قبول نہیں کرے گا کیونکہ وہ خدا کے مامور اور مرسل کے دشمن ہیں۔اس لئے آسمان پر ان کی عزت نہیں۔