واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page iv of 142

واقعات صحیحہ — Page iv

ii و مناظرات کے بعد 1896ء میں اپنی کتاب انجام آتھم میں آئندہ کے لئے مباحثات کے نتائج بدامنی وفتنہ انگیزی وغیرہ کے پیش نظر ان میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا لیکن صوفیاء اور اہل اللہ کہلانے والوں کیلئے روحانی مقابلہ کا میدان کھلا رکھا، جیسا کہ اسی کتاب میں پیر مہر علی شاہ صاحب کو مباہلہ کے روحانی مقابلہ کی دعوت بھی دی جسے انہوں نے قبول نہ کیا۔سے 1900ء میں جب پیر مہر علی شاہ صاحب نے ایک کتاب شمس الھد حیات مسیح کے موضوع پر شائع کی اور حضرت مولانا نورالدین صاحب نے ان۔محولہ کتب کے بارہ میں بعض استفسار کئے تو پتہ چلا کہ دراصل کتاب مذکوران کے مرید مولوی محمد غازی کی تالیف ہے جسے پیر صاحب سے منسوب کر دیا گیا ہے۔اس کتاب کا جواب حضرت مسیح موعود کے ایک مخلص رفیق اور سلسلہ کے بزرگ عالم حضرت سید محمد احسن امروہی صاحب نے شمس بازغہ“ کے نام سے لکھا اور مؤلف کتاب کے چیلنج کے جواب میں اپنی طرف سے مباحثہ کی بھی دعوت قبول کر لی مگر پیر صاحب نے اسکا کوئی جواب نہ دیا۔اس پر حضرت مسیح موعود نے کتاب شمس الہدایہ میں پیر صاحب کے اس دعویٰ کہ ”انہیں قرآن کریم کی سمجھ عطا کی گئی ہے“ کے فیصلہ کیلئے ایک آسان طریق تجویز کرتے ہوئے 20 جولائی 1900ء کو انہیں مقابلہ تفسیر نویسی کا چیلنج دیا کہ قرآن کریم کی کوئی سورۃ قرعہ اندازی کے ذریعہ نکال کر فریقین اس کی چالیس آیات تک ) تفسیر عربی زبان میں تحریر کریں اور تین علماء اہل سنت فریقین کی تفاسیر دیکھ کر یہ فیصلہ کریں کہ کون سی کوئی تفسیر زیادہ صحیح اور ایسے اعلی نکات پر مشتمل ہے جس کا نمونہ پہلی تفاسیر میں موجود نہیں۔یہ ثابت ہو جانے پر اس فریق کو حق پر اور من جانب اللہ تسلیم کیا جائے گا۔