واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page v of 142

واقعات صحیحہ — Page v

iii کاش! پیر صاحب اس روحانی مقابلہ کی دعوت کو قبول کرتے تو دنیا حق و باطل کا ایک اور روحانی وعلمی معرکہ کا ایک شاندار نظارہ دیکھتی۔کیونکہ یہ مقابله دراصل قرآنی آیت لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی روشنی میں مظہر و مقرب الہی وجود کے لئے نشان بنتا۔مگر انہوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ حضرت مرزا صاحب نے آئندہ مناظرے نہ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے نہایت نامعقول حیلے اور عذر لنگ اس مقابلہ تفسیر نویسی سے بچنے کے لئے پیش کئے۔مثلاً کہ پہلے مباحثہ و مناظرہ ہو اس کے بعد حضرت مرزا صاحب علماء کے فیصلہ کے بعد پیر صاحب کے ہاتھ پر تو بہ کریں پھر تفسیر نویسی کا مقابلہ ہو۔ان شرائط سے پیر صاحب کے مقابلہ پر آنے یا نہ آنے کی حقیقت صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ نشان کسی اور رنگ میں دکھانا مقصود تھا جیسا کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ پیر صاحب آپ کے مقابلہ میں نہیں آئیں گے اور ہرگز کچھ لکھ نہ سکیں گے۔پیر صاحب کے عاجز آنے کا یہ نشان اس شان کے ساتھ ظاہر ہوا کہ خود انہیں بھی اس کا اقرار کرنا پڑا۔چنانچہ ان کی سوانح ”مہر منیر میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ پیر صاحب نے قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کا ارادہ فرمایا پھر یہ کہہ کر۔۔۔معذرت خواہ ہوئے کے میرے خیال تفسیر پر میرے قلب پر اس قدر بارش شروع ہو گئی ہے جسے ضبط تحریر میں لانے کے لئے ایک عمر درکار ہوگی۔" ( مہر منیر تالیف مولوی فیض احمد صفحه : 245 دوسری طرف خود ”مہر منیر کے مطابق حضرت مرزا صاحب نے انہیں اتمام حجت کی خاطر 15 / دسمبر 1900 ء سے ستر دن کی میعاد مقرر کر کے سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھنے کا دوسرا چیلنج دے دیا۔اور باوجود خود ایک ماہ بیمار رہنے کے اس میعاد