واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 19 of 142

واقعات صحیحہ — Page 19

۱۹ فرمایا ہے کہ اگر تمہارے درمیان کوئی جھگڑا پڑ جاوے تو فیصلہ کے واسطے اللہ اور رسول کے آگے پیش کرو جس کے حق میں وہ فیصلہ دے وہی حق پر ہے۔اچھا اب ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان یہ جھگڑا ہے کہ یہ ہمیں کافر کہتے ہیں اور ہم ان کو اس فعل میں خدا کو ناراض کرنے والا کہتے ہیں۔یہ جھگڑا قرآن شریف کے جج کے سامنے پیش کرو اور دیکھو کہ فیصلہ کس کے حق میں ہے۔قرآن شریف نے جو نشان مومن اور متقی کے بیان کئے ہیں وہ تلاش کرنے چاہئیں کہ کس میں پائے جاتے ہیں۔ہم میں یا ہمارے مخالفین اور مکذبین میں۔اس جگہ ہم حضرت مرزا صاحب کے اشتہار مورخہ ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ ء میں سے اصل عبارت نقل کر دیتے ہیں۔حضرت اقدس کا اشتہار میں فیصلہ کے لئے ایک سہل طریق پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ جو لوگ در حقیقت خدا تعالیٰ کے راست باز بندے ہیں ان کے ساتھ تین طور سے خدا کی تائید ہوتی ہے (۱) ان میں اور ان کے غیر میں ایک فرق یعنی ما بہ الامتیاز رکھا جاتا ہے اس لئے مقابلہ کے وقت بعض امور خارق عادت اُن سے صادر ہوتے ہیں جو حریف مقابل سے صادر نہیں ہو سکتے جیسا کہ آیت وَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَاناً اس کی شاہد ہے (۲) اُن کو علم معارف قرآن دیا جاتا ہے اور غیر کو نہیں دیا جاتا جیسا کہ آیت إِلَّا الْمُطَهَّرُون اس کی شاہد ہے۔(۳) اُن کی دعائیں اکثر قبول ہو جاتی ہیں اور غیر کی اس قدر نہیں ہوتیں جیسا کہ آیت اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمُ (المومن (61) اس کی گواہ ہے۔سو مناسب ہے کہ لاہور میں جو صدر مقام پنجاب ہے صادق اور کاذب کے پرکھنے کے لئے ایک جلسہ قرار دیا جائے اور اس طرح پر مجھ سے مباحثہ کریں کہ قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورۃ نکالیں اور اس میں سے چالیس آیت یا ساری سورۃ اگر چالیس آیت سے زیادہ ہولے کر فریقین یعنی یہ عاجز اور مہر علیشاہ صاحب اوّل یہ دعا کریں کہ یا الہی ہم دونوں میں سے جو شخص تیرے نزدیک راستی پر ہے اُس کو تو اس جلسہ میں اس سورۃ کے حقائق اور معارف فصیح اور بلیغ عربی میں عین اسی جلسہ میں لکھنے کے لئے اپنی طرف سے ایک روحانی قوت عطا فرما