واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 18 of 142

واقعات صحیحہ — Page 18

۱۸ مولوی غازی وغیرہ پیر صاحب کے مریدوں نے صاف لفظوں میں یہ اقرار کیا کہ نہ خدا ہمارا طرف دار ہے اور نہ بیماروں کو ہماری دعا سے شفا ہو سکتی ہے۔مرزا صاحب ایک طرفہ نشان دکھا ئیں اور مریضوں کو شفا دلائیں۔اس اشتہار میں پیر مہر شاہ صاحب کے مریدوں نے بہت سی لغو اور بے ہودہ باتیں تحریر کی ہیں۔چنانچہ ایک جگہ مہدی سنوسی افریقہ والے کی بہت تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ پورا پورا عالم اور عامل بالحدیث والقرآن ہے اور اس میں تمام آثار مہدی موجود ہیں۔“ ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ بات ہے تو پیر مہر علیشاہ اور اُن کے مریدوں پر کھانا حرام ہے جب تک کہ اُس مہدی کے ساتھ بیعت نہ کر لیں جس میں تمام آثار مہدی کا ہونا وہ مانتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ وہ پورا پورا عالم اور عامل بالحدیث والقرآن ہے اور یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص پورا پورا علم رکھنے والا اور قرآن و حدیث پر عمل کرنے والا ہو اور پھر وہ جھوٹا ہو۔پس آپ کے نزدیک تو وہ سچا ہوا سو یا د رکھو کہ ہزار لعنت ہے اُس پر جو ایک شخص کو سچا پا کر پھر فوراً مطابق حکم قرآن شریف كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (التوبہ : 120) اُس کے ساتھ نہ ہو جاوے۔مگر یاد رکھو کہ یہ سب آپ کا افترا ہے۔سنوسی کو ہرگز مهدی موعود اور ملہم من اللہ ہونے کا دعوی نہیں۔پیر صاحب گولڑوی کے مرید با وجود اپنے پیر کی اس قدر کمزوری کے اقرار کے کہ ان کی دعا بیماروں اور مصیبت زدوں کے حق میں بھی قبول نہیں ہو سکتی اور باوجود ان کی اس دو رخی چال کے دیکھنے کے جو کہ انہوں نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کے جواب میں اختیار کی تھی پھر بھی یہی راگ گاتے چلے گئے کہ مرزا صاحب کی کتاب کا جواب نہیں نکلا۔امامنا مرزا صاحب کا اشتہار دعوت تب حضرت مرزا صاحب نے یہ فرمایا کہ ایسی کتابوں کے ہم کہاں تک جواب دیتے جائیں گے۔وہی باتیں جن کا ہم کئی دفعہ جواب دے چکے ہیں مخالف پھر پھر دہرا دیتے ہیں اور کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔ہماری طرف سے مبسوط کتابیں ان مسائل کی تحقیق میں نکل چکی ہیں اب زیادہ ان پر توجہ کرنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔لیکن اگر یہ لوگ نیک نیتی کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیں تو ایک آسان راہ فیصلہ کا یہ ہے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے