واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 20 of 142

واقعات صحیحہ — Page 20

اور روح القدس سے اُس کی مدد کرے اور جو شخص ہم دونوں فریق میں سے تیری مرضی کے مخالف اور تیرے نزدیک صادق نہیں ہے اس سے یہ توفیق چھین لے اور اس کی زبان کو فصیح عربی اور معارف قرآنی کے بیان سے روک لے تا لوگ معلوم کر لیں کہ تو کس کے ساتھ ہے اور کون تیرے فضل اور تیری روح القدس کی تائید سے محروم ہے ۲۔پھر اس دعا کے بعد فریقین عربی زبان میں اس تفسیر کو لکھنا شروع کریں اور یہ ضروری شرط ہو گی کہ کسی فریق کے پاس کوئی کتاب موجود نہ ہو اور نہ کوئی مددگار ضروری ہوگا کہ ہر ایک فریق چپکے چپکے بغیر آواز سنانے کے اپنے ہاتھ سے لکھے۔تا اس کی فصیح عبارت اور معارف کے سننے سے دوسرا فریق کسی قسم کا اقتباس یا سرقہ نہ کر سکے۔اور اس کی تفسیر کے لکھنے کے لئے ہر ایک فریق کو پورے سات گھنٹے مہلت دی جائے گی۔اور زانو بہ زانو لکھنا ہوگا نہ کسی پردے میں۔ہر ایک فریق کو اختیار ہو گا کہ اپنی تسلی کے لئے فریق ثانی کی تلاشی کر لے اس احتیاط سے کہ وہ پوشیدہ طور پر کسی کتاب سے مدد نہ لیتا ہو اور لکھنے کے لئے فریقین کو سات گھنٹے کی مہلت ملے گی مگر ایک ہی جلسہ میں اور ایک ہی دن میں اس تفسیر کو گواہوں کے رو بر و ختم کرنا ہو گا۔اور جب فریقین لکھ چکیں تو دونوں تفسیر میں بعد دستخط تین اہل علم کو جن کا اہتمام حاضری و انتخاب پیر مہر علیشاہ صاحب کے ذمہ ہو گا سنائی جائیں گی اور اُن ہر سہ مولوی صاحبان کا یہ کام ہو گا کہ وہ حلفاً یہ رائے ظاہر کریں کہ ان دونوں تفسیروں اور دونوں عربی عبارتوں میں سے کونسی تفسیر اور عبارت تائید روح القدس سے لکھی گئی ہے۔اور ضروری ہوگا کہ اُن تینوں عالموں میں سے کوئی نہ اس عاجز کے سلسلے میں داخل ہو۔اور نہ مہر علیشاہ کا مرید ہو۔اور مجھے منظور ہے کہ پیر مہر علیشاہ صاحب اس شہادت کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور مولوی عبداللہ پروفیسر لاہوری کو یا تین اور مولوی منتخب کریں جو ان کے مرید اور پیرونہ ہوں۔مگر ضروری ہوگا کہ یہ تینوں مولوی صاحبان حلفا اپنی رائے ظاہر کریں کہ کس کی تفسیر اور عربی عبارت اعلیٰ درجہ پر اور تائید الہی سے ہے۔لیکن یہ حلف اس حلف سے مشابہ ہونی چاہئے جس کا ذکر قرآن میں قذف محسنات کے باب میں ہے جس میں تین دفعہ قسم کھانا ضروری ہے اور دونوں فریق پر یہ واجب اور لازم ہوگا کہ ایسی تفسیر جس کا ذکر کیا گیا ہے کہ کسی حالت میں ہیں ورق سے کم نہ ہو اور ورق سے مراد اس واسطہ درجہ کی تقطیع اور قلم کا