واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 15 of 142

واقعات صحیحہ — Page 15

۱۵ مولوی غازی صاحب نے ایک ایسی بات اپنے اشتہار میں شائع کی جس سے پیر صاحب کے دونوں اقوال جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔وہ شائع کرتے ہیں کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ پیر صاحب نے سوالات کے جوابات کے لکھنے میں دیر لگائی۔انہوں نے تو پہلے ہی دن سوالات کے جوابات لکھ رکھے تھے۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ تین مختلف باتیں پیر صاحب اور اُس کے مرید کی طرف سے شائع ہوئیں اور ان میں سے کوئی سی ایک بات سچی مان لو دوسری دو جھوٹی ہیں اور صریح جھوٹ ہیں۔مثل مشہور ہے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد۔پیر صاحب پہلے کچھ فرماتے ہیں اور پھر کچھ اور۔ان کے مرید ایک اور ہی نرالی بات نکالتے ہیں اور ان کو کچھ یاد نہیں رہتا کہ پیر صاحب کیا فرما چکے ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس بات کے ثبوت میں کہ قرآن شریف اُس کا اپنا کلام ہے۔ایک یہ دلیل بھی دی ہے کہ اگر یہ خدا کا کلام نہ ہوتا تو لو جد و افيه اختلافاً كثيرا۔اس میں بہت سی باتیں ایک دوسرے کے مخالف ہوتیں۔خدا کے نبیوں اور ولیوں کے مکذب چونکہ الہی سلسلہ کے مخالف ہوتے ہیں اس واسطے ہمیشہ ایسا ہوتا ہے ان کے کلام میں اختلاف سے جھوٹ ظاہر ہو جاتا ہے۔اور صرف یہی نہیں کہ مکذبین کے فلاسفروں اور علماء سے ایسی حرکت سرزد ہوتی ہے بلکہ ان میں سے اگر کوئی خدا کی طرف سے الہام پانے کا دعوی کرے اور امام وقت کی مخالفت کرے تو چونکہ اس مخالفت میں اُس کے الہام خدا کی طرف سے نہیں بلکہ شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس واسطے ضرور ہے کہ فیه اختلافاً كثيرا کی مہر ان پر لگی ہوئی ہو۔با بوالهی بخش صاحب ملهم اس جگہ اس بات کا ذکر خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ اسی شہر لاہور میں ایک شخص با بو الہی بخش اکو نٹنٹ ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوتا ہے اور بہت عرصے سے ہوتا ہے۔مدت تک ان کو حضرت مرزا صاحب کے دعاوی کی تصدیق میں الہام اور رویاء ہوتے رہے۔چنانچہ وہ ہمیں بھی سناتے رہے اور ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ انہوں نے مجھے اپنے