واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 14 of 142

واقعات صحیحہ — Page 14

۱۴ سب عملہ کی ہے یا نہیں۔ایک اور گزارش بھی معروض کرتا ہوں کہ جواب میں نقل بالاستیعاب اور لحاظ محل کلام اور مرزا صاحب کا خاص دستخط ہونا ضروری سمجھے جاویں گے۔یہ نہ ہو کہ تحقیق تضاد ما قبل اور مابعد کلمہ بل میں استشہاد و تئیسویں آیت کتاب استثناء سے پکڑ کر بائیسویں آیت کو بالکل متروک کر دیا جاوے۔اور یہ بھی نہ ہو کہ محل ذکر قول حضرت شیخ کو تو جیہ کلمہ طیبہ میں خیال نہ فرما کر الزام مخالفت حضرت شیخ کا لگایا جاوے۔یا نکات بعد الوقوع کو مثل تخشبہ مسیح کے بالملائکہ جو (عزیزاً حكيما) کے متعلق خلاصہ قول شیخ اکبر و شیخ علی قدس سرہما لکھا گیا ہے علل موجبہ سے ٹھیرا کر مادہ نقض پیدا کریں۔اور نیز معلوم ہو کہ ضعاف کو بھی ہم بعد تشیید مبانی دعوئی کے بکتاب وسنت صحیحہ متواترہ قبول فرماویں گے۔مثلاً قول ضحاک اور حوالہ عباسی جن میں اصحاب جرح والتعدیل کو کلام ہے بعد تقویت مذکور کے بغیر عذ رسند ہو گا۔علماء وقت کے تو امید تھی کہ آپ مرزا صاحب کو بھی سمجھا دیں گے۔خود غلط بود آن چه ما پنداشیتم مجھے بخیال شان آپ کے بڑا افسوس ہے کہ جناب سے ایسے سوالات سرزد ہوں عصمت انبیاء اور عدم وقوع خطافے الا مر التبلیغی میں تو تر درد ہو مگر مرزا صاحب کی عصمت اور عدم امکان خطائے فی التعبیر تک بھی متیقن به سبحان اللہ مولانا آپ کے اخلاق کریمانہ سے امید کرتا ہوں کہ تشریح حقیقت معجزہ سے ذرہ آپ ہی ممنون فرماویں گے۔والسلام خیر ختام المكلف العبد الملتجی الی الله المدعو بہ مہر شاہ عفی عنہ اس جگہ ایک لطیفہ قابل ذکر ہے کہ جس کو ہمارے ایک دوست نے اپنے اشتہار میں شائع کیا تھا اور وہ یہ ہے۔کہ اول تو پیر صاحب نے اپنے خط میں سوالات کا جواب نہ دینے کی یہ وجہ بیان کی کہ میں کتاب کا مؤلف نہیں ہوں اور مولوی غازی جو مؤلف ہے وہ اس وقت یہاں نہیں۔پھر اپنے اشتہار میں پیر صاحب نے سوالات کا جواب نہ دینے کی یہ وجہ بیان کی کہ جوابات کے لکھنے میں سائل کا کسر شان تھا اس واسطے میں نے جوابات نہیں لکھے تھے اب ان دو مخالف وجوہات میں سے ضرور ہے کہ ایک جھوٹا ہو مگر پیر صاحب کے مرید