واقعات صحیحہ — Page 16
۱۶ الہامات کا رجسٹر دکھلایا اور اُس میں ایک جگہ کچھ اس طرح سے لکھا ہوا تھا کہ میں نے دل میں خیال کیا کہ مرزا صاحب کو تو خدا تعالیٰ نے بڑے بڑے درجات عطا کئے مگر میرے واسطے کچھ نہیں تو الہام ہوا ذلك فضل الله يوتيه من يشاء۔غرض یہ بابو صاحب اور اُن کے ساتھی منشی عبدالحق صاحب پنشنز ہمیشہ حضرت مرزا صاحب کی تائید اور تصدیق میں مصروف رہے۔لیکن ایک دفعہ جب یہ دونوں صاحبان قادیان حضرت اقدس کے پاس گئے اور آپ کی خدمت میں اپنے الہامات کی کتاب کھولی جس میں بہت سا رطب و یا بس بھرا ہوا تھا تو حضرت اقدس نے بابو صاحب کو اپنی اس بے بضاعتی پر اتنا اتراتے ہوئے دیکھ کر از روئے شفقت سمجھایا کہ حقیقت الہام کیا ہے اور کس طرح سے اُس میں بعض دفعہ اپنی خواہشوں اور شیطان کے دھوکوں کی ملونی ہوتی ہے۔اور عوام کے الہامات اور مامورین من اللہ کے الہامات میں فرق بتلایا ( جیسا کہ حضرت مرزا صاحب نے مفصل طور پر اپنی کتاب ضرورت امام میں لکھا ہے ) تو یہ بات بابو صاحب کو بری لگی اور اُن پر قبض وارد ہوئی۔اور بد قسمتی سے اسی قبض کی حالت میں وہ قادیان سے چلے آئے۔اور طرف یہ کہ یا تو اُن کو حضرت مرزا صاحب کی تائید میں الہام ہوا کرتے تھے اور یا اب یہ سب اُن کی اپنی تمنا کے دخل کے اُن کی مخالفت میں الہامات ہونے شروع ہو گئے۔اور بابو صاحب کو یہ بھی عقل نہ آیا کہ ان کے پیر صاحب (مولوی عبداللہ صاحب غزنوی) حضرت مرزا صاحب کی تائید میں اپنا کشف عوام میں مدت ہوئی شائع کر چکے ہیں اور اُس کشف کا ذکر کئی دفعہ بابو صاحب اور منشی عبدالحق صاحب کے سامنے ہوا اور یہ دونوں صاحب ہمیشہ مرزا صاحب کی تائید میں رہے۔اب اس واقعہ کو اہل الرائے کے سامنے پیش کیا جاوے تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ یا تو بابو الہی بخش کے پچھلے الہام شیطانی اور جھوٹے ہیں یا اس کے اپنے پچھلے الہام اور اُس کے پیر کا کشف جھوٹا ہے۔بہر حال با بوالہی بخش صاحب تو دونوں صورتوں میں جھوٹے ہوتے ہیں مگر ہم اُن کو نیک صلاح دیتے ہیں کہ وہ دوسری صورت کو پسند کریں تا کہ کم از کم انہیں اپنے پیر مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے کشف کو شیطانی کشف نہ کہنا پڑے اور ایسے متقی شخص پر ان کو الزام نہ لگانا پڑے اور اب امرتسر کے غزنوی گروہ کی طرف محض مرزا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے رجوع کرنا ان کو مناسب نہیں کیونکہ بابو صاحب کو یاد ہو گا کہ جب ان بزرگوں