واقعات صحیحہ — Page 11
و ابن کثیر اور استنباط صحیح ہوگا۔دوبارہ معروض ہے کہ آپ نے ابن جریر ہی کی تعیین کہاں۔سمجھ لی۔عبارت ہذا ( تفاسیر معتبرہ سے مثل ابن جریر وابن کثیر کی الخ ) میں تو عموم ہے۔سه باره مکلف ہوں کہ اگر آپ ابن جریر ہی سے جواب دینا چاہتے ہیں تو آسان طریق عرض کیا جاتا ہے کہ آپ قول ابن جریر کا یہ تحویل ثقات مثل حافظ عماد الدین و علامه سیوطی وغیرہ کی نقل فرما دیں۔جیسا کہ شمس الہدایت میں کہا گیا ہے ہم کو بسر و چشم منظور و مقبول ہو گا۔ہاں اگر آپ کو محض ابن جریر کے دیکھنے کا اشتیاق ہے تو مولوی محمد غازی صاحب فرماتے ہیں کہ بالمشافہ دکھا سکتا ہوں۔مولانا مجھے تو پہلے ہی سوال سے حسن ظن مسموعی جاتا رہا ذرہ غرض متکلم کو غور فرما کر معترض ہونا چاہئے۔جواب نمبر (2) لیجئے تفسیر سفیان بن عینیہ۔روکیع بن الجراح و شعبة بن الحجاج و یزید بن ہارون وعبد الرزاق و آدم بن ابی ابلیس و اسحق بن راہو یہ وروح بن عبادہ وعبد بن حمید ومسند ابی بکر بن ابی شیبہ وابن ابی حاتم وابن ابی ماجه والحاکم و ابن مردویہ و ابو الشیخ ابن حبان وابن المنذر ) جن کی شان میں علامہ سیوطی و کلہا مندۃ الے الصحابۃ الخ فرماتے ہیں۔جواب نمبر (3) میرے نزدیک کلی طبعی کا منشا موجود فے الخارج ہے اور تشخص عین شخص ہے مگر عوارض بھی لزوم نے امتحقق سے بہرہ یاب ہیں۔جواب نمبر (4) تحدد امثال کا مسئلہ میرے نزدیک صحیح ہے مگر تجد دشہودی وحدت سیالہ کو منافی نہیں جو مدار ہے ترتب احکام عرفیہ کے لئے۔جواب نمبر (5) جزئیات انسانیہ ماہیت معروضہ کا نام ہے وجودات خاصہ ہوں یا عدمات خاصہ یا دونوں سے مغایر اجسام ثلثہ کو عینی ہوں یا برزخی یا حشری زید کے مسمی میں نہایت ہی دخل ہے فقط روح مجرد کے لئے بمنزلہ لباس ہیں ہاں بطریق مجاز مرسل کبھی جزء ماہیت پر بھی بولے جاتے ہیں۔یہاں پر لحاظ قرائن مثل قتل وصلب نہایت ضروری ہے۔جواب نمبر (6) انبیاء ورسل علیہم السلام انواع ذنوب و خطایا سے جو منافی ہوں شان نبوت کو معصوم و مامون ہیں ورنہ امر بالاتباع کیسے متصور ہو سکتا ہے۔قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ اور لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أسْوَةٌ