واقعات صحیحہ — Page 12
۱۲ حَسَنَةٌ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانُ - (الحجر: (43)۔اور ایسا ہی فینسخ الله ما يلقى الشيطان حامی وقت ہے۔اولیائے کرام جو بعد فناء اتم کا نہ ہو کی رنگت سے رنگین ہوں داخل ہیں بشارت مذکورہ میں۔اصالت و تبعیت کا فرق ہے۔جواب (7) الهام و کشف و رویاء صالحه منجمله شعب ایمانیہ سے ہیں اور معیار صحت وفساد کا مطابقت ہے کتاب وسنت ہے۔جواب نمبر (8) تاریخ کبیر بخاری کا ذکر در منشور کی عبارت میں آیا ہے جو شمس الہدایۃ میں منقول ہے۔مولانا یہ سوال علامہ سیوطی سے دریافت کرنا تھا میرے سے آپ در منشور ر کا ہونا نہ ہونا استفسار فرماتے۔۔جواب نمبر (9) آیت (بَلْ رَفِعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (النساء: 159) کے متعلق چونکہ ابن کثیر اور درمنثور سے تفسیر لکھی گئی ہے آپ سب احادیث مذکورہ کی تخریجات وہاں سے معلوم فرما سکتے ہیں ایک دو جگہ تفسیر ابن کثیر اور در منثور کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔ناظرین تفاسیر مذکورہ کو چونکہ سب تخریجات ایک ہی جگہ سے مل سکتی ہیں لہذا ہر ایک حدیث کے بعد بوجہ اختصار نہیں لکھی گئیں۔مولانا سب اسانید کی صحت کشفیہ یا عرفیہ سے خالی نہیں ہاں صرف ایک دو جگہ جیسے روایت ضحاک یا ابی صالح کی صنعاف میں سے مذکور ہیں مگر بعد تقویت مدعی کے ساتھ صحاح کے وہ بھی اُس مقام میں جہاں خصم سے مطلق روایت کا مطالبہ کیا گیا ہے گو کہ ضعاف میں سے ہو۔جواب نمبر (10) عقل اور قانون قدرت جو عبارت ہے استقراء ناقص۔اعتبار ان کا محدود ہے تا وقتیکہ نص مخالف قطعی الدلالہ شارع سے وارد نہ ہو۔معلوم ہوا کہ اسی تحیر نے آپ کو مرزا صاحب کے قدموں میں جھکایا ہے مگر پھر بھی عقدہ کشائی نہ ہوئی۔جواب نمبر (11) تفسیر بالرائے جس کے جواز میں اختلاف ہے تاویل متشابہات غیر مختصه بعلم الباری اور بعلم الرسول کا نام ہے۔تفسیر بالرائے جس کا جواز اتفاقی۔عبارت ہے استنباط احکام سے اصلیہ ہوں یا فرعیہ اعرابیہ ہوں یا بلاغیہ وغیرہ وغیرہ بشرط قابلیت۔ہے تفسیر بالرائے جو بالا تفاق ناجائز اور منہی عنہ ہے۔غیر متشابہ کا نام ہے جو مختص ہو