واقعات صحیحہ — Page 110
ان کے شہداء کو پکارا گیا اور غیرت اور جوانمردی کا مقتضا تھا کہ وہ اس مرد آزما میدان میں بڑھ بڑھ کر قدم مارتے مگر متصرف علی القلوب خدا نے ان کی غیر تیں سلب کر لیں اور ان کی ہمتوں اور قصد وں کے ہاتھ شل کر دیئے اور وہ اس نامردی اور روسیا ہی پر تہ دل سے راضی ہو گئے اور جس شخص کی تردید اور انکار ان کی دلی مراد تھی اس بزدلی سے انہوں نے اپنے ہاتھوں پاؤں پڑ کر مٹی پر ناک رگڑ کر اس کے صدق پر مہر کر دی۔خدا ترس اہلِ دل اور سنن انبیاء علیہم السلام سے واقف اس کلام سے جو اس صدف عصمت و عفت کے قیمتی موتی کے منہ سے نکلا ہے۔نور اور فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔میرے قلب کی بناوٹ خداوند حکیم نے ایسی بنائی ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات خصوصاً عائشہ صدیقہ کی شہادت کو حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے صدق پر لانظیر شہادت مانتا ہوں۔ایک محرم تمام گرد و پیش کے حالات سے واقف جس پر بے تکلفی اور سادگی اضطراری تحریکات اور جذبات وقتا فوقتا برہنہ تجلی کرتی اور اپنا سارا اندرونہ کبھی بتدریج اور کبھی یکبارگی اگل کر سامنے رکھ دیتی ہیں اپنے ایسے رفیق کی نسبت گواہی دے اور رفتار زندگی میں اپنے چال چلن اور خارق عادت صدق سے اس شہادت پر راستی اور حقیقت کا نشان لگا دے۔یہ صدق کا ایسا نشان ہے کہ کسی بڑے نشان سے نیچے نہیں۔اسی بنا پر میں نے اس شہادت اور پاک اور سادہ الفاظ میں ادا کی ہوئی شہادت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔جو حضرت صدیقہ ثانیہ نے حضرت موعود علیہ السلام کی نسبت دی ہے۔آہ ! بد بخت اور سکنج دل جو ان باتوں کو استخفاف اور حقارت سے دیکھتے۔کاش کوئی اور پیرا یہ ہوتا کوئی اور الفاظ ہوتے جو ان صداقتوں اور میرے صدق دل اور ایمان اور بصیرت اور خشیتہ اللہ کو مد نظر رکھے ہوئے دل کے بچے اظہارات کے ایصال اور اظہار کا ذریعہ بن سکتے اور شکوک اور اوہام اور بد گمانیوں کے پتھروں کو لوگوں کی راہ سے صاف کر سکتے۔مگر سنت اللہ اور سنت الانبیاء اور اطراف اور نئی تلاشوں سے مایوس کر دیتی ہے جب کہ وہ یقین دلاتی ہے کہ ایک ہی ذریعہ ہے جس سے سارے خدا کے برگزیدہ شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ یہی ہے جو ہمارے برگزیدہ امام علیہ السلام کی پاک زندگی پوری صفائی سے پیش کر رہی ہے۔خدا تعالی کی لگاتار نصرتی آسمان سے اور محرم راز انیسوں اور واقف حال جلیسوں کی خدا کے لئے