واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 111 of 142

واقعات صحیحہ — Page 111

گواہیاں زمین سے۔اگر یہ معیار صدق نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں۔ایک اُمّی نے تحدی کی اسی طرح جیسے اس سے پہلے فَاتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِثْلِهِ ( البقرۃ :24) کی صدا میں کی گئی تھی۔ایک ناتوان اور بے سامان اور قوم اور زمینوں کے مہجور و متروک نے با سامان زمانہ کو مقابلہ کے لئے بلایا۔وہ کامیاب ہوا۔وہ اکیلا بلا مزاحمت مالی لیکر عزت کے ساتھ میدان سے نکلا اور اس کے تمام حریفوں نے جو اس کی بے عزتی کے لئے تڑپتے تھے خجالت اور ندامت کے نقابوں میں مسخ شدہ چہروں کو چھپا لیا۔کیا فرق ہے کونسا ما بہ الامتیاز ہے اس تحدی میں اس دعوے کے الفاظ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے شائع ہوئے اور اس میں جو فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِثْلِہ کے رنگ میں کیا گیا تھا۔جیسے قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْجِنُّ وَالْإِنُسُ عَلَى أَنْ يَّا تُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرانِ (بنی اسرائیل: 89) کہا گیا تھا۔اسی طرح آج بھی تحدی کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ مہر علی شاہ کے ساتھ تمام علما مل جائیں بلکہ ممکن ہو تو عربوں کو بھی ساتھ ظہیر بنالے۔خدا کے لئے کچھ تو منہ سے پھوٹو اور کبھی تو خدا لگتی گواہی دو کہ پچھلی تحدی پہلی کی طرح پوری ہوئی کہ نہ ہوئی۔اے خدا نا ترس مخالف ! ناحق کے غضب سے پوستین کو مت پھلا اور غیظ کی جھاگ منہ پر مت لا۔اللہ تعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر اور خوب سوچ کر کوئی لطیف فرق اور نازک امتیاز دکھا۔سن اور سمجھ لے کہ ان دونوں تحریوں میں سرمو بھی فرق نہیں اور ضرور تھا کہ اس زمانہ میں بھی ایسی تحدی ہوتی اس لئے کہ وہ پہلا سربستہ راز سمجھ میں آجاتا کہ کیوں کر آسمانوں اور زمینوں کا مالک خدا صرف الوجوہ کیا کرتا ہے۔میں نے حضرت امام علیہ السلام کو امی کہا ہے۔اللہ تعالی گواہ اور آگاہ ہے کہ میں نے مبالغہ اور اطراء سے کام نہیں لیا۔و لعنة الله على المادحين المطرين الذين يقولون ما ليس في قلوبهم ولا فى ممد و جسم میں خوب جانتا ہوں کہ آج زمانہ میں علم اور فن اور فضل کا کیا چرچا اور کیسا سامان اور کسی فن میں کمالات حاصل کرنے کے لئے کیا کیا تحریکات اور مواد ہیں۔اور میں خوب جانتا ہوں کہ کس طرح ادباء ادب کی تحصیل میں ار دوسرے علوم کے شیدا ان علوم میں دستگاہ پیدا کرنے کی لئے جان تو ڑ کر سعی کر رہے ہیں اور بہت سے ان میں اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہیں۔حضرت حجتہ اللہ آیتہ اللہ کو دیکھتا