واقعات صحیحہ — Page 109
1+9 کھڑا ہو گیا۔رات کو حضرت موعود علیہ السلام آدھی رات سے زیادہ تک اور پھر اسی افراتفری میں جمے ہوئے اور نکالے ہوئے پروف دیکھتے رہے۔مطبع کے کارکن رات بھر کام کرتے رہے۔اور آج ۲۳ کی صبح کو اعجاز المسیح پورے دو سو صفحوں میں مکمل ہو کر ڈاک کے ذریعہ مختلف مقامات میں بھیجا گیا۔ظہر کی نماز کے وقت جب آپ مسجد میں تشریف لائے آپ کا درخشاں چہرہ جس پر کامیابی اور نصرت حق اور محبوبیت ڈھیروں پھول برسا رہی تھی۔عشاق کیلئے ایک نورانی مشعل تھا جس کی روشنی میں وہ براہ راست وجہ اللہ کو دیکھتے تھے۔ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔جب انھوں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی وحی کس شان اور قوت سے پوری ہوئی جو اس سے ڈیڑھ ماہ پہلے تمام بلاد میں شائع کی گئی تھی کہ دشمنوں کی فتح ہو گئی۔خدا کی فتح بعد میں آوے گی۔وہ فتح جو عوام نے مہر شاہ کی طرف منسوب کی وہ بازاری شور سے زیادہ نہ تھی۔مگر خدا کی نصرت جو اعجاز المسیح کی شکل میں ظاہر ہوئی۔علمی معجزہ اور دائمی فتح ہے جس کے حروف زمانہ کے صفحوں پر سدا چمکتے رہیں گے۔سب سے زیادہ خوشی انہیں اس جلالی وحی کے پورا ہونے سے ہوئی کہ منعۀ مانع من السماء۔اس سے نئے طور پر سمجھ میں آیا کہ کیسا قا در متصرف علی القلوب خدا ہے اپنی مرضی کے پورا کرنے کے لئے جس طرف چاہے دلوں کو پھیرے اور دوستوں کے ساتھ اس کا معاملہ اور ہے۔اور دشمنوں کے ساتھ اور۔خدا تعالیٰ کی برکتیں اور صلوات شامل حال ہوں۔حضرت موعود کے حرم محترم کے کہ پرسوں انہوں نے ایک فقرہ کہہ کر اپنی فراست حقہ اور خدا بین اور رسالت فہیم طبیعت کا کیسا ثبوت دیا۔از بس کہ وہ رات دن مشاہدہ کرتی تھیں اور اُن سے زیادہ اور کون مخلوقات میں سے شاہد حال ہو سکتا تھا کہ حضرت موعود علیہ السلام دن رات میں کئی کئی مرتبہ موت تک پہنچ جاتے اور بیسیوں دفعہ لکھتے لکھتے تین تین چار چار لحاف اوڑھ کر لیٹ جاتے اور ہاتھ پیر مردہ بے جان کی طرح ٹھنڈے ہو جاتے پھر اس نادر کام کو کامل مکمل دیکھ کر وہ حضرت۔مخاطب ہو کر کہتی ہیں کہ میری روح شرح صدر سے گواہی دیتی ہے کہ آج وہ الہام ایک عزت کا خطاب پورا ہو گیا اس سے زیادہ کیا عزت ہے۔اور انبیاء و مرسلین اور اہل اللہ کی ایسی ہی خدائی رنگ کی عزت ہوا کرتی ہے۔کہ اس قدر تحدی اور دعوے کے ساتھ علماء اور