واقعات صحیحہ — Page 101
1+1 بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ناظرین کو معلوم ہوگا کہ میں نے مخالف مولویوں اور سجادہ نشینوں کی ہر روز کی تکذیب اور زباں درازیاں دیکھ کر اور بہت سی گالیاں سُن کر اُن کی اس درخواست کے بعد کہ ”ہمیں کوئی نشان دکھلایا جائے۔ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں اُن لوگوں میں سے مخاطب خاص پیر مہر علی شاہ صاحب تھے۔اُس اشتہار کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ اب تک مباحثات مذہبی بہت ہو چکے ہیں جن سے مخالف مولویوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھایا۔اور چونکہ وہ ہمیشہ آسمانی نشانوں کی درخواست کرتے رہتے ہیں کچھ تعجب نہیں کہ کسی وقت ان سے فائدہ اٹھا لیں۔اس بنا پر یہ امر پیش کیا گیا تھا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جو علاوہ کمالات۔: ا پیری کے علمی توغل کا بھی دم مارتے ہیں۔اور اپنے علم کے بھروسہ پر جوش میں آکر انہوں نے میری نسبت فتویٰ تکفیر کو تازہ کیا اور عوام کو بھڑ کانے کے لئے میری تکذیب کے متعلق ایک کتاب لکھی اور اس میں اپنے مایہ علمی پر فخر کر کے میری نسبت یہ زور لگایا کہ یہ شخص علم حدیث اور قرآن سے بے خبر ہے اور اس طرح سرحدی لوگوں کو میری نسبت مخالفانہ جوش دلایا اور علم قرآن کا دعویٰ کیا۔اگر یہ دعویٰ اُن کا سچ ہے کہ اُن کو علم کتاب اللہ میں بصیرت تام عنایت کی گئی ہے تو پھر کسی اُن کی پیروی سے انکار نہیں چاہئے اور علم قرآن سے بلا شبہ با خدا اور راستباز ہونا بھی ثابت ہے۔کیونکہ بموجب لا يمسه الا المطهرون صرف پاکباطن لوگوں کو ہی کتاب عزیز کا علم دیا جاتا ہے۔لیکن صرف دعوی قابل تسلیم نہیں بلکہ ہر ایک چیز کا قدر امتحان سے ہو سکتا ہے اور امتحان کا ذریعہ مقابلہ ہے کیونکہ روشنی ظلمت سے ہی شناخت کی جاتی ہے اور چونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس الہام سے مشرف فرمایا ہے کہ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ القُرانَ (الرحمن ( 32 ) کہ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اس لئے میرے لئے صدق یا کذب کے پر کھنے کے لئے یہ نشان کافی ہو گا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب میرے مقابل پر کسی