واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 102 of 142

واقعات صحیحہ — Page 102

۱۰۲ سورة قرآن شریف کی عربی فصیح بلیغ میں تفسیر لکھیں۔اگر وہ فائق اور غالب ہے تو پھر ان کی بزرگی ماننے میں مجھ کو کچھ کلام نہیں ہو گا۔پس میں نے اس لئے اس امر کو قرار دے کر اُن کی دعوت میں اشتہار شائع کیا جس میں سراسر نیک نیتی سے کام لیا گیا تھا۔لیکن اس کے جواب میں جس چال کو اُنہوں نے اختیار کیا ہے اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ اُن کو قرآن شریف سے کچھ بھی مناسبت نہیں اور نہ علم میں کچھ دخل ہے یعنی اُنہوں نے صاف گریز کی راہ اختیار کی اور جیسا کہ عام چالبازوں کا دستور ہوتا ہے یہ اشتہار شائع کیا کہ اول مجھ سے حدیث اور قرآن سے اپنے عقائد میں فیصلہ کر لیں۔پھر اگر مولوی محمد حسین اور اُن کے دوسرے دو رفیق کہہ دیں کہ مہر علی شاہ کے عقائد صحیح ہیں تو بلا توقف اُسی وقت میری بیعت کر لیں پھر بیعت کے بعد عربی تفسیر لکھنے کی بھی اجازت دی جائے گی۔مجھے اس جواب کو پڑھ کر بلا اختیار اُن کی حالت پر رونا آیا اور اُن کی حق طلبی کی نسبت جو امیدیں تھیں سب خاک میں مل ن کی حالت پر رونا۔گئیں اب اس اشتہار لکھنے کا یہ موجب نہیں ہے کہ ہمیں اُن کی ذات پر کچھ امید باقی ہے بلکہ یہ موجب ہے کہ باوصف اس کے اس معاملہ کو دو مہینے سے زیادہ عرصہ گزر گیا مگر اب تک اُن کے متعلقین سب وشتم سے باز نہیں آتے۔اور ہفتہ میں کوئی نہ کوئی ایسا اشتہار پہنچ جاتا ہے جن میں پیر مہر علیشاہ کو آسمان پر چڑھایا ہوا ہوتا ہے۔اور میری نسبت گالیوں سے کاغذ بھرا ہوا آتا ہے۔اور عوام کو دھو کہ پر دھوکہ دے رہے ہیں۔اور میری نسبت کہتے ہیں کہ دیکھو اس شخص نے کس قدر ظلم کیا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جیسے مقدس انسان بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے صعوبت سفر اُٹھا کر لاہور میں پہنچے۔مگر یہ شخص اس بات پر اطلاع پا کر کہ در حقیقت وہ بزرگ نابغه زمان اور سبحان دوران اور علم معارف قرآن میں لاثانی روزگار ہیں۔اپنے گھر کے کسی کو ٹھ میں چھپ گیا ورنہ حضرت پیر صاحب کی طرف سے معارف قرآنی کے بیان کرنے اور زبان عربی کی بلاغت فصاحت دکھلانے میں بڑا نشان ظاہر ہوتا۔لہذا آج میرے الہی بخش صاحب اکونٹٹ نے بھی اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں پیر صاحب کی جھوٹی فتح کا ذکر کر کے جو چاہا کہا ہے بات تو تب ہے کہ کوئی انسان حیا اور انصاف کی پابندی کر کے کوئی امر ثابت بھی کرے۔ظاہر ہے کہ اگر منشی صاحب کے نزدیک پیر مہر علی شاہ صاحب علم قرآن اور زبان عربی سے کچھ حصہ رکھتے ہیں